Posts

Showing posts from February, 2023

محبوب کبریا آئے

بچانے نار سے محبوب کبریا آئے ہمیں وہ خلد کا دکھلانے راستہ آئے نہ جان پائے حقیقت مکین سدرہ جب کسی کی عقل میں کیا شانِ مصطفیٰ آئے خدا کے رحمت و انوار کا بنا مصدر حلیمہ جب ترے گھر شاہِ انبیا آئے وہ دیکھو سر پہ شفاعت کا تاج پہنے ہوئے "انا لہا کی صدا لے کے مصطفیٰ آئے" درود لب پہ ہو اور سامنے مدینہ ہو دعا ہے رب سے اسی حال میں قضا آئے درود پاک سے اپنے لبوں کو تر رکھنا ترے قریب کبھی کوئی جو بلا آئے     سجائی ہم نے زمین پر جو نعت کی محفل فرشتے لے کے یہاں رحمت خدا آئے وہابیوں نے کیا دینِ حق پہ جب حملہ تو بن کے سیف الہی مرے رضا آئے لبوں پہ نعت سجا کر میں جاؤں گا کاوش بلاوا آئے مدینے سے تو مزہ آئے

بارش نور میں نہائیں گے

محفل مصطفیٰ سجائیں گے بارشِ نور میں نہائیں گے پانے " من زار قبری" کا مژدہ " ہم دیار نبی میں جائیں گے" بخش دے گا خدا خطائیں سب جب وسیلہ انہیں بنائیں گے تنگ ہو جائے اپنا دامن پر "لا" زباں پر نبی نہ لائیں گے جو غلامانِ شاہِ طیبہ ہیں  رنج میں بھی وہ مسکرائیں گے حسن طیبہ جو دیکھ لیں کاوش روس ، لندن وہ بھول جائیں گے

درود پڑھتے ہیں

زباں دلوں کو بناکر درود پڑھتے ہیں  چلو ہم اپنے نبی پر درود پڑھتے ہیں تخیلات ہوں بہتر درود پڑھتے ہیں ہوں ذہن خوب منور درود پڑھتے ہیں فرشتے صف بہ صف آکر ہر ایک صبح و مسا  "خدا کے پیارے نبی پر درود پڑھتے ہیں" گلے سے اپنی اجابت لگا لے اس باعث دعا سے پہلے نبی پر درود پڑھتے ہیں نزولِ رحمتِ پروردگار ‌ہو ہم پر یہی سبب ہے کہ اکثر درود پڑھتے ہیں کریں گے خواب میں دیدار وہ شہِ دیں کا جو سوتے جاگتے ان پر درود پڑھتے ہیں ہم ایسے سنی ہیں کاوش جو بعد مرنے کے ہمارے لاشے مچل کر درود پڑھتے ہیں

یا شہ جیلاں

مری بھی زندگی میں آئے نکہت یا شہِ جیلاں مہک جائے گلِ عشق و محبت یا شہِ جیلاں بخارا ہو کہ ہو اجمیر یا کلیر کی دھرتی ہو ہے برسا سب پہ تیرا فضل و رحمت یا شہِ جیلاں تمہارا نام کرتا ہے عطا ساحل غموں سے اور "تمہارے ذکر سے ملتی ہے راحت یا شہِ جیلاں" ہے جگ میں خائب و خاسر نہیں اس کا کوئی ہمدم  نہیں تجھ سے ہے جس کو بھی عقیدت یا شہِ جیلاں کرے جو خامہ فرسائی یہ *کاوش* شان میں تیری  ہے اعلیٰ اس سے تیری عز و عظمت یا شہِ جیلاں

لعنت جہیز کی

اچھی نہیں ہے دوستو ! عادت جہیز کی دل سے نکال ڈالو تم الفت جہیز کی اس کی وجہ سے کتنے ویران گھر ہوئے  آئی ہوئی ہے جب سے مصیبت جہیز کی لے کر کٹورا ہاتھ میں در در وہ بھیک مانگے شادی کرے جو لےکر دولت جہیز کی ماتم ہے ان کی عقل پر دولت کے ہوتے بھی رکھتے ہیں دل میں اپنے جو چاہت جہیز کی کاوش کی ہے دعا یہی رب سے ،کہ دور ہو مسلم معاشرہ سے یہ لعنت جہیز کی

قول نبی عزیز

نظم و غزل کی مجھ کو نہیں دلکشی عزیز نعتِ رسولِ پاک کی ہے چاشنی عزیز " دیوانۂ رسول " سے دنیا پکارے بس " مجھ کو یہی پسند ہے ، مجھ کو یہی عزیز " عیش و طرب کا وقت ہو یا رنج کا سماں  ہر حال میں ہو مومنو! قولِ نبی عزیز شاہِ عرب کے جو بھی ہیں عشاق بالیقیں ان کے عدو سے رکھتے نہیں دوستی عزیز اصحابِ مصطفیٰ ہوں کہ آلِ رسول ہوں عز و وقار والے ہیں اور ہیں سبھی عزیز کثرت سے مومنو! کرو صلِّ علیٰ کا ورد باغِ جناں کی گر ہے تمہیں دلکشی عزیز کاوش شہِ زمن کی اطاعت سے ذکر سے راحت ملے گی ہوگی تری زندگی عزیز

مدحت کریں گے

جو شاہِ زمن کی اطاعت کریں گے وہ حاصل زمانے میں عزت کریں گے ہو خلوت یا جلوت بفضلِ الہی "رسول مکرم کی مدحت کریں گے" مقدر کا تارا چمک جائے گا ، جو کرم کی نظر جانِ رحمت کریں گے دکھائیں گے آقا انہیں اپنا جلوہ جو ان پر درودوں کی کثرت کریں گے جڑیں شرک و بدعت کے فتوے وہابی مگر سنی جشن ولادت کریں گے مہک اٹھے الیاس فکر و تخیل نبی گر عطا حرفِ مدحت کریں گے

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

دلی حسرت ہے پہنچوں میں مدینے یا رسول اللہ قصیدے میں وہیں لکھوں تمہارے یا رسول اللہ مٹی تاریکیاں پھیلی اجالے یا رسول اللہ جہاں میں آپ جب تشریف لائے یا رسول اللہ گھرےہیں مشکلوں میں اور پریشاں حال ہیں ہم سب خدارا ہوں کرم کے اب اشارے یارسول اللہ تمہاری ہی ضیا کی بھیک پاکر جگمگاتے ہیں یہ سورج چاند جگنو اور ستارے یا رسول اللہ کروں کیا پیش نذرانے حضوری میں تمہارے میں یہ دل یہ جان ہیں سب کچھ تمہارے یا رسول اللہ خطا ہے اصل میں اس کی ہے جس کی سوچ شیطانی تمہارا مرتبہ وہ خاک جانے یا رسول اللہ تمہارا ذکر ہے ارفع تمہاری شان ہے اولیٰ "تمہارے نام پہ دل سے میں صدقے یا رسول اللہ" بفیضِ حضرت حسان و بوصیری زمانے میں یہ "فن شاعری" بھی خوب چمکے یا رسول اللہ پھلے پھولے کرے تا حشر دینِ پاک کی خدمت یہ جو تحریک ہے یا رب "میں صدقے یا رسول اللہ" یہی رب سے دعا الیاس کی ہے تا دمِ آخر درود و نعت کے ہوں لب پہ نغمے یا رسول اللہ

مصطفیٰ کی آمد پر

نور میں نہانا ہے مصطفیٰ کی آمد پر دل کو جگمگانا ہے مصطفیٰ کی آمد پر واہ کیا نظارا ہے مصطفیٰ کی آمد پر "ہر طرف اجالا ہے مصطفیٰ کی آمد پر" دہر سے مٹا ہر شر ، خیر کی ہوئی آمد فضل رب کا برسا ہے مصطفیٰ کی آمد پر وہ نہ جان پائیں گے جو ہیں منکرِ میلاد کیا سرور ملتا ہے مصطفیٰ کی آمد پر وجد کرتا ہے عاشق ، نعت کا ترانہ جب کوئی بھی سناتا ہے مصطفیٰ کی آمد پر غیظ میں عدو جل کر راکھ ہوں مگر الیاؔس ذکر ہم کو کرنا ہے مصطفیٰ کی آمد پر

ماہ میلاد ہے

آؤ اے عاشقو ماہِ میلاد ہے نعتِ سرور سنو ماہِ میلاد ہے ابر رحمت کی چھائی ہوئی ہے گھٹا "ذکر ان کا کرو ماہِ میلاد ہے" ہم تو خوشیاں منائیں گے اے نجدیو ! تم جلو یا مرو ماہِ میلاد ہے کیف و مستی میں ڈوبا ہے سارا جہاں جھومو اے دوستو ماہِ میلاد ہے بن کے رحمت حبیبِ خدا آگئے بیٹیو! تم ہنسو ماہِ میلاد ہے تجھ پہ الیاؔس آقا کا ہوگا کرم نعتِ ان کی لکھو عید میلاد ہے

شہ ابرار آ گئے

عدل و وفا خلوص کے گُل لہلہا گئے روئے زمیں پہ جب شہِ ابرار آ گئے *لولاک* والے آپ کے ہی نورِ پاک سے شمس و قمر ستارے سبھی جگمگا گئے ظلم و جفا کی وادی سے آقا نکال کر " بھٹکے ہوؤں کو راہِ ہدایت دکھا گئے" ایمان ، پیارا دین ، خدا کا کلامِ حق ہم سب رسولِ پاک کے صدقے میں پا گئے چل کر اسی پہ امن و سکوں پائیں گے سبھی جو راستہ رسولِ معظم بتا گئے میں نے رسولِ پاک کا نعرہ لگایا جب عاشق لگے مچلنے عدو تھرتھرا گئے الیاس ہو کروڑوں درود ان کی ذات پر سینے سے دشمنوں کو جو اپنے لگا گئے

پہچان ہیں احمد رضا

لؤلؤ و مرجان ہیں احمد رضا صاحبِ عرفان ہیں احمد رضا عاشقانِ مصطفیٰ صلِّ علی آپ پر قربان ہیں احمد رضا حق و باطل جاننے کے واسطے دوستو! پہچان ہیں احمد رضا معترف اس بات پہ ہے ہر کوئی *"عاشقی کی جان ہیں احمد رضا"* جس کی بو سے سنیت ہے مشکبار وہ گلِ ریحان ہیں احمد رضا کہ اٹھے " اقبال " پڑھ کر فتوے کو پرتوِ " نعمان " ہیں احمد رضا

پیام رضا

جہاں میں بڑا احترامِ رضا ہے کہ لاریب عالی مقامِ رضا ہے جو اعدائے شاہِ دوعالم ہیں‌ ، ان سے نہ رکھ واسطہ یہ پیامِ رضا ہے جو عاشق کے دل کی کرے ترجمانی بفضلِ خدا وہ سلامِ رضا ہے اسے دیو کے بندے بہکا نہ پائیں پیا جس نے " اختر" سے جامِ رضا ہے اسی پر ہو نازاں یہ الیاس یارو زمانہ کہے گر غلامِ رضا ہے

سیدی احمد رضا

معتمد ہیں مستند ہیں سیدی احمد رضا اہل حق کے واسطے ہیں روشنی احمد رضا مصطفیٰ سے کام رکھو غیر سے رکھو نہ کام دے گئے پیغام دنیا کو یہی احمد رضا اپنی خوشبو سے معطر ہم کو بھی کر دو کبھی " تم گل برکاتیت ہو سیدی احمد رضا " فضلِ حق سے آپ نے ان کو کیا ہے بے نقاب  بن کے رہبر کرتے تھے جو رہزنی احمد رضا ہر کسی کو آپ کی نسبت پہ فخر و ناز ہے قادری برکاتی ہو یا اشرفی احمد رضا اہل باطل سے ہمیں الیاس لڑنے کے لئے دے گئے ہتھیار ہم کو قیمتی احمد رضا

ظلم کا کاٹا گلہ شبیر نے

یہ نہ پوچھو کیا کیا مردِ خدا شبیر نے ؟ حرمتِ دیں کو نہیں مٹنے دیا شبیر نے عرش نے بھی ان کا اس دم بڑھ کے بوسہ لے لیا شکرِ رب میں جب کیا سجدہ ادا شبیر نے کیا کوئی کر پائے گا ایسی سخاوت دوستو! جیسی کی ہے فاتحِ کرب و بلا شبیر نے شمعِ دیں کو کردیا روشن ہمیشہ کےلئے اپنا کنبہ کرکے قرباں پارسا شبیر نے ہے وہاں کا ذرہ ذرہ اس پہ شاہد بالیقیں "کربلا میں ظلم کا کاٹا گلا شبیر نے"   زندگی الیاس اس کی ہوگئی ہے پرضیا جس کسی پہ ڈالی ہے چشمِ عطا شبیر نے 

ورد صلِّ علی کجیے

روز و شب وردِ صلِّ علیٰ کیجیے دور ہوگا اندھیرا کبھی نہ کبھی نور و نکہت کی برسات سے پرضیا دل کا ہوگا دریچہ کبھی نہ کبھی جن کی رحمت سے ہوتے ہیں سب فیضیاب اپنے منگتوں کو جو دیتے ہیں بے حساب ان کی الفت کا قندیل دل میں جلا وہ دکھائیں گے جلوہ کبھی نہ کبھی دیکھنا ان کے لطف و کرم کے طفیل اپنے ماں باپ کے ساتھ اے دوستو! "نعتِ سلطانِ دیں گنگناتا ہوا جاؤں گا شہرِ طیبہ کبھی نہ کبھی" رحمتِ رب سے مایوس ہرگز نہ ہو رنج و غم کو زوال آئے گا ایک دن اس کے فضل و کرم سے چمک جائے گا تیری قسمت کا تارا کبھی نہ کبھی سید الانبیا رب کے محبوب کی دل میں الیاس جس کے ہو الفت بسی حق تعالیٰ کی رحمت سے وہ بالیقیں پائے گا خاص تحفہ کبھی نہ کبھی

طیبہ نگر کبھی نہ کبھی

طفیل حضرت خیر البشر کبھی نہ کبھی خدا کرے گا خطا درگزر کبھی نہ کبھی عطا ہو اذنِ حضوری جو آپ کی آقا "ضرور جاؤں گا طیبہ نگر کبھی نہ کبھی" اسی طلب میں درود ان پہ پڑھ کے سوتا ہوں کہ ہوگی دیدِ شہِ بحر و بر کبھی نہ کبھی ستمگروں سے یہ کہتے تھے غم کے مارے ہوئے  سکوں سے ہوگا ہمارا بسر کبھی نہ کبھی رسول پاک کی سیرت پہ چل کے اے الیاس بنوگے دہر میں تم تاجور کبھی نہ کبھی

تاج الشریعہ کا

زباں پر ہے مرے نغمہ مرے تاج الشریعہ کا ہے دل پر آج بھی قبضہ مرے تاج الشریعہ کا دِوانے مانگنے آ روضہ مرے تاج الشریعہ کا ہے بہتا فیض کا دریا مرے تاج الشریعہ کا جمالِ حجۃالاسلام کمالِ مفتئ اعظم سراپا یارو تھا ایسا مرے تاج الشریعہ کا عصائے موسوی بن کر ہر اک نجدی وہابی پر قلم بھی خوب ہے چمکا مرے تاج الشریعہ کا حدیث مصطفیٰ سے اور کلام اللہ سے بیشک مزین ہے ہر اک فتویٰ مرے تاج الشریعہ کا زمانہ ہوگیا ہے پر نہیں بھولا ہوں میں اب تک *"منور چاند سا چہرہ مرے تاج الشریعہ کا"* شرف کعبہ کی مہمانی کا انہیں حاصل بھی ہے الیاس بلند رب نے کیا رتبہ مرے تاج الشریعہ

مسرت نہ پوچھئے

ذکرِ شہِ امم کی حلاوت نہ پوچھئے ہوتی ہے کیسے دل کو مسرت نہ پوچھئے  جس کو لگا کے زہر بھی کافور ہوگیا سرکار کے لعاب کی برکت نہ پوچھئے ہم عاصیوں کے واسطے ہر اک مقام پر " سلطانِ دو جہاں کی محبت نہ پوچھئے " ناموسِ مصطفےٰ پہ جو قربان ہو گیا اس کا مقام اس کی تو عظمت نہ پوچھئے  عشقِ نبی میں ڈوب کے پڑھتا ہوں جب نماز پاتا ہوں کیسی چاشنی راحت نہ پوچھئے کھچڑا ملیدہ دیو کو بدعت لگے مگر کوے سے ان کو کیسی ہے رغبت نہ پوچھئے الیاؔس کربلا کی دہکتی زمین پر شیرِ خدا کے لعل کی جرأت نہ پوچھئے

لاجواب ہے

بےمثل و بے مثال ہے تو لاجواب ہے ذرہ تری گلی کا جو ہے ماہتاب ہے تاریکیاں زمانے سے کافور ہوگئیں آقا جو رخ سے آپ کے اٹھا نقاب ہے جب سے قدم پڑے ہیں رسول انام کے *طیبہ میں ہر مرض کی دوا دستیاب ہے* چوما ہے کامیابی نے اس کے قدم شہا جو بھی تمہارے در سے ہوا باریاب ہے پل میں شفا ملی ہے قتادہ کی آنکھ کو جب اس میں شاہ دیں نے لگایا لعاب ہے اس پر برستی رہتی ہے لعنت خدا کی ، جو مردودِ بارگاہِ رسالت مآب ہے الیاؔس گر رسول کی چشمِ عطا ہوئی رب کے حضور پھر ترا آساں حساب ہے

آپ آئے حضور

جہاں میں جیتے رہیں بن کے ہم فدائے حضور یہ دل ہمارا رہے بن کے آشنائے حضور عیاں ہے آیتِ تحویلِ قبلہ سے نجدی رضائے رب بھی وہی ہے جو ہے رضائے حضور سنہری جالی ہو پیشِ نظر تو لب پہ درود قضا ہمیں بھی اسی کیفیت میں آئے حضور بروز حشر صفی و نجی ذبیح و خلیل  کریں گے اول و آخر سبھی ثنائے حضور کسی کو چاہیے دولت کسی کو جاہ و جلال *ہمارے واسطے کافی ہے بس عطائے حضور* جہان والے جسے کہہ رہے تھے یثرب وہ شفا کا بن گیا مرکز جو آپ آئے حضور غموں کی دھوپ سے الیاس کیسے گھبرائے تمہارے لطف و کرم کے ہیں اس پہ سائے حضور

مدینہ جائیں گے

آقا کا جب ہوگا بلاوا شہرِ مدینہ جائیں گے رودادِ غم ان سے کہیں گے زخم جگر دکھلائیں گے جانِ رحمت شاہِ مدینہ شان نرالی جن کی ہے محشر کے دن اوّل و آخر گیت انہیں کے گائیں گے نورِ وحدت ماہِ نبوت آپ کا سن کر ذکرِ پاک ایماں ہم ضوبار کریں گے شیشئہ دل چمکائیں گے ہوں گے رسوا وہ نہ کہیں خوب ملے گی عزت بھی فخرِ عالم آپ کی سیرت جو بھی قسم اپنائیں گے چھٹ جائیں گےغم کے بادل خوشیاں ملیں گی یارو ہر پل "دو جگ کے سلطان محمد نظرِ کرم فرمائیں گے" رکھتے ہیں جو دل میں نفرت چھوڑیں جو آقا کی سنت روزِ محشر وہ سب الیاس پیشِ خدا پچھتائیں گے

رضا کے نغمے

کیونکر نہ سب کے دل کو بھائے رضا کے نغمے ہیں مثل ماہ پارے میرے رضا کے نغمے عشق و ادب کی دولت شہر رضاسے لے کر شہر مدینہ چلئے پڑھتے رضا کے نغمے حاصل ہے فضل رب سے سنی کو نعمتیں یہ غوث الورٰی کے مرغے پیارے رضا کے نغمے عشق نبی اکرم کا ہے صلہ یہ واللہ "کو کو میں بلبلوں کی گونجے رضا کے نغمے" اردو ادب کی بیشک ہے شاہکار اعلی عشق و وفا کی بو سے مہکے رضا کے نغمے الیاس عاشقوں کے ہے دل کی ترجمانی اچھے رضا کے نغمے سچے رضا کے نغمے

مدح و ثنا کرتے ہیں

کبھی طہ کبھی یسین کہا کرتے ہیں مصطفیٰ پیارے کی جب مدح و ثنا کرتے ہیں زندگی میں وہی شاداب رہا کرتے ہیں جو شہ دیں کی محبت میں جیا کرتے ہیں جو ہیں محبوب خدا اور سراپا رحمت "میری امید سے بڑھ کر وہ عطا کرتے ہیں" دامنِ رحمت عالم سے ہیں جو وابستہ در بدر وہ نہ زمانے میں پھرا کرتے ہیں گلشنِ ہستی میں آجاتی ہے اک دم سی بہار نغمۂ صل علی جب بھی پڑھا کرتے ہیں یارو! مشکل کا بھی ہوجاتا ہے رستہ مشکل نام جب شاہ دوعالم کا لیا کرتے ہیں ختم دنیا سے خدا کردے کرونا کا عذاب صدقے حسنین کے ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں رنج و غم کے ہیں جو مارے نہیں جن کے یاور ان کے دامن میں وہ الیاس چھپا کرتے ہیں

عید آ گئی

پرنور ہو گیا ہے سما عید آگئی پائیں گے ہم بھی فضلِ خدا عید آگئی دولت خدا نے دی ہے اگر تجھ کو مومنو! پھر کرنا بے کسوں پہ دیا عید آگئی اے فرشیو ہو تم کو مبارک بہت بہت "دی یہ ملائکہ نے صدا عید آ گئی" بہرِ حسن حسین کورونا سے دے نجات مولیٰ چلا دے باد شفا عید آگئی الیاؔس دل سے شکوے گلے کو مٹاکے تو دشمن کو بھی گلے سے لگا عید آگئی

فضیلت بہت ہے

درِ مصطفیٰ کی فضیلت بہت ہے شرافت بزرگی کرامت بہت ہے بلا شبہ ہر ایک خلقِ خدا پر " مِرے مصطفیٰ کی عنایت بہت ہے " کہیں جس کو عشاق کعبے کا کعبہ وہ طیبہ نگر خوبصورت بہت ہے درودوں کی کثرت کریں آپ ہر دم  خدا کی قسم اس میں لذت بہت ہے صحابہ سے آل نبی سے ہے الفت  یہ نعمت برائے شفاعت بہت ہے وہ اپنے ہوں یا غیر دیتے ہیں سب کو شہِ بحر و بر کی سخاوت بہت ہے جو الیاؔس نے پائی مدحت کی دولت بفضلِ خدا یہ سعادت بہت ہے

حبیب خدا خاتم الانبیاء

مظہر کبریا خاتم الانبیا رتبہ اعلیٰ ترا خاتم الانبیا تم سے ہے آسرا خاتم الانبیا کردو لطف و عطا خاتم الانبیا محترم محتشم جگ میں بعد خدا ہیں حبیبِ خدا خاتم الانبیا ہیں دعائے خلیل و نویدِ مسیح ذاتِ شاہِ ہدیٰ خاتم الانبیا خالقِ کل جہاں نے کیا ہے تجھے " شاہِ ہر دوسرا خاتم الانبیا " موت آ جائے الیاؔس کو پڑھتے ہی نعت شاہ ہدیٰ خاتم الانبیا

گنگناتے جائیں گے

روح کو آقا کی الفت میں رچاتے جائیں گے دل کو ان کی یاد کا شیشہ بناتے جائیں گے روضئہ سرکار پر جب حاضری ہوگی کبھی نغمۂ صلِّ علیٰ ہم گنگناتے جائیں گے شدت محشر سے راحت اس گھڑی مل جائے گی چادرِ رحمت میں جب آقا چھپاتے جائیں گے جن کے دل میں ہے محبت مصطفےٰ کے آل کی باغ جنت دیکھنا وہ مسکراتے جائیں گے منعقد کرکے رسولِ پاک کی میلاد ہم " مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے " جو شہیدِ عشقِ شاہِ بحروبر الیاؔس ہیں وہ سرِ شمشير بھی قرآں سناتے جائیں گے

شب معراج

کریں گے کیوں نہ ترا تذکرہ شب معراج ہے ذکر قرآں میں جب کہ ترا شبِ معراج ہوا ہے اول و آخر کا معنیٰ بھی ظاہر بنے جب آقا مرے مقتدا شبِ معراج نہ ہو سکا جو شرف اور نبیوں کو حاصل ملا وہ آپ کو شاہ ہدیٰ شب معراج زمیں میں دھومیں مچی تھی فلک پہ شادی رچی سماں تھا خوب نرالا نیا شبِ معراج بشر کا اوڑھے لباده وہ عرش کے آگے " خدا سے ملنے گئے مصطفیٰ شبِ معراج " کجی ہے جن کے دلوں میں وہ آج بھی الیاؔس سوال کرتے ہیں ہم سے ہے کیا شبِ معراج

تضمین بر کلام جد الشعرا

پائے مقدّر چمکا ، چاند رشکِ سورج ہوگا چاند سمجھے نعمتِ عُظمٰی چاند "پائے جو "خاکِ مدینہ" چاند" "رخ پہ ملے یہ " غازه " چاند" زورِ ہوا سے نہ ڈوبے کشتی صبح و مسا دُھن ایک رہی ٹوٹے نہ رشتہ اِن سے کبھی "مذہب ، آل ، صحابی ، نبی" "دھار ، سفینہ ، تارا ، چاند" مخزنِ عرفان و انوار نبیوں کے خاتم اور سردار عاصی امت کے غمخوار "جمع صحابہ میں سرکار" "جیسے محاطہ ہالہ چاند" شمع کے کیا پروانے تھے  طرزِ تلاش کو جانے تھے  گُل کی مہک پہچانے تھے  "بو پہ ستارے چلتے تھے" "ڈھونڈنے اپنا مہکا چاند" ہے الیاس ! یہی عرضی  چَھٹ جائے ہر بدلی کالی  حسرت ہے مدّت سے دل کی "ایک جھلک امجؔد کو بھی" "آئے نظر طیبہ کا چاند "

دربار یا خواجہ

دکھادو اب مجھے بھی اپنا رخ یک بار یا خواجہ مری آنکھیں ہیں کب سے طالبِ دیدار یاخواجہ تمہارے میکدے کا جو ہوا مے خوار یا خواجہ دوعالم میں وہ خوشیوں سے ہوا سرشار یاخواجہ مسیحا بن کے بھارت کی زمیں پر آپ جو آۓ  تو ہارا کفر جیتا دین آخر کار یاخواجہ نگاہِ فیض سے وہ صاحبِ دستار کہلائے  جو تھے دنیا کی نظروں میں ذلیل و خوار یا خواجہ بھلا مانوس مخلوقِ خدا تجھ سے نہ کیونکر ہو ہے راضی تجھ سے جب دنیا کا پالنہار یا خواجہ خدارا کیجئے امداد اب اپنے غلاموں کی عدوِّ دیں ہیں اکثر در پئے آزار یا خواجہ تِرا دیوانہ بولیں دیکھ کر مجھ کو جہاں والے " رہوں الفت میں تیری اس طرح سرشار یا خواجہ " بھلا الیاؔس ہو کیونکر درِ اغیار کا شیدا بنایا تونے جب اپنا سگِ دربار یا خواجہ

خواجہ پیا غریب نواز

کرکے مجھ پر دَیا غریب نواز مجھ کو اپنا بنا غریب نواز صرف فرشی نہیں ہیں عرشی بھی تیرا نغمہ سرا غریب نواز خلق کو رب سے جوڑنے تیرا " ہند آنا ہوا غریب نواز " تیرے دربار کے ہیں خوشہ چیں تاجور ، اغنیا غریب نواز جانتے سب ہیں تو ہے بندہ نواز اور در ہے ترا غریب نواز ہند میں خوشبو دین کی پھیلی تجھ سے بیشک شہا غریب نواز ہند کے راجا ہیں وہی الیاؔس جو ہیں خواجہ پیا غریب نواز

منور یا رسول اللہﷺ

طفیل حضرتِ شبیر و شبر یا رسول اللہ ﷺ بلا لیجے ہمیں بھی اپنے در پر یا رسول اللہ ﷺ میسر ہو جسے بھی گیسوئے واللیل کی خوشبو عزیز اس کو نہ ہوگا مشک و عنبر یا رسول اللہ ﷺ خدائے لم یزل نے آپ کو بخشا ہے یہ رتبہ بنادیں ذرۂ کمتر کو گوہر یا رسول اللہ ﷺ بیاں کیا ہوسکے گی آپ کی نورانیت ہم سے منور جس سے ہیں یہ ماہ و اختر یا رسول اللہ ﷺ زیارت کےلئے مشتاق ہیں آنکھیں ہماری بھی "دکھادیں اب ہمیں روئے منور یا رسول اللہ ﷺ" یہی الیاؔس کی بھی التجا ہے جاں کنی کے وقت ہو کلمہ آپ کا اس کو میسر یارسول اللہ ﷺ

دیوان لہلہائے گا

ثنا کے پھول سے دیوان لہلہائے گا بیاضِ نعت پہ جب خامہ مسکرائے گا جو لےکے حسنِ عمل اپنے ساتھ جائے گا مقام اپنا وہ باغِ جناں میں پائے گا نگاہِ لطف و کرم جس پہ ڈال دیں آقا کہیں بھی جائے وہ ہرگز نہ مات کھائے گا بلال بولے امیہ جو چاہے کرلے تو خیالِ شاہِ مدینہ نہ دل سے جائے گا مَلا ہے جس نے بھی رخ پر مدینے کا غازه وہ جگمگاتا ہے تاحشر جگمگائے گا ٹھکانہ تیرا ہے گستاخ جب جہنم میں "بروزِ حشر تو جنت میں کیسے جائے گا ؟" نبی کے شہر میں جاکر کروں گا نعتیں رقم مرے نصیب میں یہ دن ضرور آئے گا نبی کا ذکر ہی الیاؔس زیست میں تیرے سکون و چین کے لمحات خوب لائے گا

دل مدینہ بنا لیجیے

لو حبیبِ خدا سے لگا لیجئے ان کے دیدار کا پھر مزہ لیجئے آپ پڑھ کے نبی پر درود و سلام بے کلی اپنے دل کی مٹا لیجئے سج گئی محفلِ مصطفیٰ دوستو ! آئیے دل مدینہ بنا لیجئے میرے آقا کی سنت پہ کرکے عمل کامیابی زمانے میں پا لیجئے بھول جائیں گے کشمیر کی وادیاں اپنی آنکھوں میں طیبہ بسا لیجئے  پھر مصائب کا گھر میں نہ ہوگا دخل " سبز گنبد کا طغری لگا لیجئے " ٹوٹ جائے نہ سانسوں کی پھر ڈوریاں  طیبہ الیاؔس کو اب بلا لیجئے

تضمین بر کلام فریدی

رکھتے ہیں پاس میں ہم سب سے نرالا تعویذ ہر مصیبت میں یہ دیتا ہے سہارا تعویذ آپ کے نام کا جب سے ہے سنبھالا تعویذ "ہم نے ہر گز نہ کسی غیر کا پہنا تعویذ" "ہر نفس آپ کی یادوں کو بنایا تعویذ" بہرِ خلقت وہ بشر فیض کا دریا ہو جائے خدمتِ دیں کےلئے خادمِ اعلیٰ ہوجائے حق کے طالب کےلئے نور کی برکھا ہوجائے "آنکھ بھر کر جسے دیکھوں وہی شیدا ہوجائے" "دل میں پنہاں ہے مرے عشق کا ایسا تعویذ " آل و اصحاب کے تا عمر رہو بن کے گدا ان کی الفت میں جیو چھوڑ دو فکرِ دنیا کیا غرض رافضی ، دیوبندی ، وہابی سے بھلا "آل و اصحاب کے بارے میں ہو تقلید رضا" "سو عقیدوں میں ہے یہ ایک عقیدہ تعویذ " جادۂ حق سے نظر میری ہٹاۓ کیسے دھوکے سے جال میں صیاد پھنسائے کیسے رنج و غم آنکھ ہمیں یارو! دکھائے کیسے "لطف اغیار قریب آئے تو آئے کیسے" "ہے حصار ان کی عنایت کا ہمارا تعویذ " بات کرتا ہوں پتے کی اسے سمجھیں نہ مذاق زہرِ مشکل کے لئے ہے یہ جہاں میں تریاق ہند کا باسی ہو یا رومی ہو یا اہلِ عراق " کھل کے آجاتا ہے ، ہوتا ہے اگر دل میں نفاق" "آ...

قرار آئے گا

لو مدینے کی جانب تو اپنی لگا قلبِ مضطر کو تیرے قرار آئے گا مصطفیٰ تجھ پہ کردیں جو چشمِ کرم تیرا سویا نصیبہ چمک جائے گا دوجہاں جن کے صدقے میں پرنور ہے ظلمتِ کفر جن سے ہوئی دور ہے ہیں وہ نورِ خدا سید الانبیا ہر سو ان کا ہی جلوہ نظر آئے گا بولے روح الامیں آپ جیسا حسیں یا نبی میں کسی کو بھی دیکھا نہیں آپ کو کی شہا رب نے کوثر عطا مرتبہ کیا بیاں کوئی کر پائے گا شانِ سرور سے کرتا ہے انکار تو اولیا سے بھی رہتا ہے بیزار تو حشر میں مصطفیٰ و خدا کے حضور نجدیا کیسے چہرہ تو دکھلائے گا بالیقیں یہ حقیقت ہے اے دوستو کوئی قصہ فسانہ نہیں ہے سنو "آسماں پہ ملک غسل دیں گے اسے  جو نبی کی محبت میں مر جائے گا" اس کا الیاؔس ایماں مکمل نہیں عشقِ سرور سے دل جس کا گھائل نہیں کامیابی زمانے میں وہ پائے گا سیرتِ شاہِ بطحا جو اپنائے گا