شب معراج
کریں گے کیوں نہ ترا تذکرہ شب معراج
ہے ذکر قرآں میں جب کہ ترا شبِ معراج
ہوا ہے اول و آخر کا معنیٰ بھی ظاہر
بنے جب آقا مرے مقتدا شبِ معراج
نہ ہو سکا جو شرف اور نبیوں کو حاصل
ملا وہ آپ کو شاہ ہدیٰ شب معراج
زمیں میں دھومیں مچی تھی فلک پہ شادی رچی
سماں تھا خوب نرالا نیا شبِ معراج
بشر کا اوڑھے لباده وہ عرش کے آگے
" خدا سے ملنے گئے مصطفیٰ شبِ معراج "
کجی ہے جن کے دلوں میں وہ آج بھی الیاؔس
سوال کرتے ہیں ہم سے ہے کیا شبِ معراج
Comments
Post a Comment