اسی میں شادمانی ہے
کرم سرکار کا ہے اور خدا کی مہربانی ہے
گنہگاروں کو روزِ حشر کی جو شادمانی ہے
جہاں کا چپہ چپہ چھان کر روح الامیں بولے
شہ لولاک جیسا خوبرو نہ کوئی ثانی ہے
بسالو دل میں سرکارِ دوعالم کی محبت کو
مزےمیں گزریگی پھرتیری بھی جوزندگانی ہے
شہ بطحا کی اسوے پہ گزارو زندگی اپنی
اسی میں شادمانی ہے اسی میں کامرانی ہے
برستی ہے خدا کی رحمتیں شام و سحر یارو
مدینہ طیبہ لطف و کرم کی راجدھانی ہے
ادب سے سنتے ہیں الیاؔس آکرکے فرشتے بھی
امام الانبیا کی ہوتی جس دم نعت خوانی ہے
از : محمد الیاس مصباحی اُرّو سریا گریڈیہ
Comments
Post a Comment