Posts

Showing posts with the label نعت

محبوب کبریا آئے

بچانے نار سے محبوب کبریا آئے ہمیں وہ خلد کا دکھلانے راستہ آئے نہ جان پائے حقیقت مکین سدرہ جب کسی کی عقل میں کیا شانِ مصطفیٰ آئے خدا کے رحمت و انوار کا بنا مصدر حلیمہ جب ترے گھر شاہِ انبیا آئے وہ دیکھو سر پہ شفاعت کا تاج پہنے ہوئے "انا لہا کی صدا لے کے مصطفیٰ آئے" درود لب پہ ہو اور سامنے مدینہ ہو دعا ہے رب سے اسی حال میں قضا آئے درود پاک سے اپنے لبوں کو تر رکھنا ترے قریب کبھی کوئی جو بلا آئے     سجائی ہم نے زمین پر جو نعت کی محفل فرشتے لے کے یہاں رحمت خدا آئے وہابیوں نے کیا دینِ حق پہ جب حملہ تو بن کے سیف الہی مرے رضا آئے لبوں پہ نعت سجا کر میں جاؤں گا کاوش بلاوا آئے مدینے سے تو مزہ آئے

بارش نور میں نہائیں گے

محفل مصطفیٰ سجائیں گے بارشِ نور میں نہائیں گے پانے " من زار قبری" کا مژدہ " ہم دیار نبی میں جائیں گے" بخش دے گا خدا خطائیں سب جب وسیلہ انہیں بنائیں گے تنگ ہو جائے اپنا دامن پر "لا" زباں پر نبی نہ لائیں گے جو غلامانِ شاہِ طیبہ ہیں  رنج میں بھی وہ مسکرائیں گے حسن طیبہ جو دیکھ لیں کاوش روس ، لندن وہ بھول جائیں گے

درود پڑھتے ہیں

زباں دلوں کو بناکر درود پڑھتے ہیں  چلو ہم اپنے نبی پر درود پڑھتے ہیں تخیلات ہوں بہتر درود پڑھتے ہیں ہوں ذہن خوب منور درود پڑھتے ہیں فرشتے صف بہ صف آکر ہر ایک صبح و مسا  "خدا کے پیارے نبی پر درود پڑھتے ہیں" گلے سے اپنی اجابت لگا لے اس باعث دعا سے پہلے نبی پر درود پڑھتے ہیں نزولِ رحمتِ پروردگار ‌ہو ہم پر یہی سبب ہے کہ اکثر درود پڑھتے ہیں کریں گے خواب میں دیدار وہ شہِ دیں کا جو سوتے جاگتے ان پر درود پڑھتے ہیں ہم ایسے سنی ہیں کاوش جو بعد مرنے کے ہمارے لاشے مچل کر درود پڑھتے ہیں

قول نبی عزیز

نظم و غزل کی مجھ کو نہیں دلکشی عزیز نعتِ رسولِ پاک کی ہے چاشنی عزیز " دیوانۂ رسول " سے دنیا پکارے بس " مجھ کو یہی پسند ہے ، مجھ کو یہی عزیز " عیش و طرب کا وقت ہو یا رنج کا سماں  ہر حال میں ہو مومنو! قولِ نبی عزیز شاہِ عرب کے جو بھی ہیں عشاق بالیقیں ان کے عدو سے رکھتے نہیں دوستی عزیز اصحابِ مصطفیٰ ہوں کہ آلِ رسول ہوں عز و وقار والے ہیں اور ہیں سبھی عزیز کثرت سے مومنو! کرو صلِّ علیٰ کا ورد باغِ جناں کی گر ہے تمہیں دلکشی عزیز کاوش شہِ زمن کی اطاعت سے ذکر سے راحت ملے گی ہوگی تری زندگی عزیز

مدحت کریں گے

جو شاہِ زمن کی اطاعت کریں گے وہ حاصل زمانے میں عزت کریں گے ہو خلوت یا جلوت بفضلِ الہی "رسول مکرم کی مدحت کریں گے" مقدر کا تارا چمک جائے گا ، جو کرم کی نظر جانِ رحمت کریں گے دکھائیں گے آقا انہیں اپنا جلوہ جو ان پر درودوں کی کثرت کریں گے جڑیں شرک و بدعت کے فتوے وہابی مگر سنی جشن ولادت کریں گے مہک اٹھے الیاس فکر و تخیل نبی گر عطا حرفِ مدحت کریں گے

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

دلی حسرت ہے پہنچوں میں مدینے یا رسول اللہ قصیدے میں وہیں لکھوں تمہارے یا رسول اللہ مٹی تاریکیاں پھیلی اجالے یا رسول اللہ جہاں میں آپ جب تشریف لائے یا رسول اللہ گھرےہیں مشکلوں میں اور پریشاں حال ہیں ہم سب خدارا ہوں کرم کے اب اشارے یارسول اللہ تمہاری ہی ضیا کی بھیک پاکر جگمگاتے ہیں یہ سورج چاند جگنو اور ستارے یا رسول اللہ کروں کیا پیش نذرانے حضوری میں تمہارے میں یہ دل یہ جان ہیں سب کچھ تمہارے یا رسول اللہ خطا ہے اصل میں اس کی ہے جس کی سوچ شیطانی تمہارا مرتبہ وہ خاک جانے یا رسول اللہ تمہارا ذکر ہے ارفع تمہاری شان ہے اولیٰ "تمہارے نام پہ دل سے میں صدقے یا رسول اللہ" بفیضِ حضرت حسان و بوصیری زمانے میں یہ "فن شاعری" بھی خوب چمکے یا رسول اللہ پھلے پھولے کرے تا حشر دینِ پاک کی خدمت یہ جو تحریک ہے یا رب "میں صدقے یا رسول اللہ" یہی رب سے دعا الیاس کی ہے تا دمِ آخر درود و نعت کے ہوں لب پہ نغمے یا رسول اللہ

مصطفیٰ کی آمد پر

نور میں نہانا ہے مصطفیٰ کی آمد پر دل کو جگمگانا ہے مصطفیٰ کی آمد پر واہ کیا نظارا ہے مصطفیٰ کی آمد پر "ہر طرف اجالا ہے مصطفیٰ کی آمد پر" دہر سے مٹا ہر شر ، خیر کی ہوئی آمد فضل رب کا برسا ہے مصطفیٰ کی آمد پر وہ نہ جان پائیں گے جو ہیں منکرِ میلاد کیا سرور ملتا ہے مصطفیٰ کی آمد پر وجد کرتا ہے عاشق ، نعت کا ترانہ جب کوئی بھی سناتا ہے مصطفیٰ کی آمد پر غیظ میں عدو جل کر راکھ ہوں مگر الیاؔس ذکر ہم کو کرنا ہے مصطفیٰ کی آمد پر

ماہ میلاد ہے

آؤ اے عاشقو ماہِ میلاد ہے نعتِ سرور سنو ماہِ میلاد ہے ابر رحمت کی چھائی ہوئی ہے گھٹا "ذکر ان کا کرو ماہِ میلاد ہے" ہم تو خوشیاں منائیں گے اے نجدیو ! تم جلو یا مرو ماہِ میلاد ہے کیف و مستی میں ڈوبا ہے سارا جہاں جھومو اے دوستو ماہِ میلاد ہے بن کے رحمت حبیبِ خدا آگئے بیٹیو! تم ہنسو ماہِ میلاد ہے تجھ پہ الیاؔس آقا کا ہوگا کرم نعتِ ان کی لکھو عید میلاد ہے

شہ ابرار آ گئے

عدل و وفا خلوص کے گُل لہلہا گئے روئے زمیں پہ جب شہِ ابرار آ گئے *لولاک* والے آپ کے ہی نورِ پاک سے شمس و قمر ستارے سبھی جگمگا گئے ظلم و جفا کی وادی سے آقا نکال کر " بھٹکے ہوؤں کو راہِ ہدایت دکھا گئے" ایمان ، پیارا دین ، خدا کا کلامِ حق ہم سب رسولِ پاک کے صدقے میں پا گئے چل کر اسی پہ امن و سکوں پائیں گے سبھی جو راستہ رسولِ معظم بتا گئے میں نے رسولِ پاک کا نعرہ لگایا جب عاشق لگے مچلنے عدو تھرتھرا گئے الیاس ہو کروڑوں درود ان کی ذات پر سینے سے دشمنوں کو جو اپنے لگا گئے

ورد صلِّ علی کجیے

روز و شب وردِ صلِّ علیٰ کیجیے دور ہوگا اندھیرا کبھی نہ کبھی نور و نکہت کی برسات سے پرضیا دل کا ہوگا دریچہ کبھی نہ کبھی جن کی رحمت سے ہوتے ہیں سب فیضیاب اپنے منگتوں کو جو دیتے ہیں بے حساب ان کی الفت کا قندیل دل میں جلا وہ دکھائیں گے جلوہ کبھی نہ کبھی دیکھنا ان کے لطف و کرم کے طفیل اپنے ماں باپ کے ساتھ اے دوستو! "نعتِ سلطانِ دیں گنگناتا ہوا جاؤں گا شہرِ طیبہ کبھی نہ کبھی" رحمتِ رب سے مایوس ہرگز نہ ہو رنج و غم کو زوال آئے گا ایک دن اس کے فضل و کرم سے چمک جائے گا تیری قسمت کا تارا کبھی نہ کبھی سید الانبیا رب کے محبوب کی دل میں الیاس جس کے ہو الفت بسی حق تعالیٰ کی رحمت سے وہ بالیقیں پائے گا خاص تحفہ کبھی نہ کبھی

طیبہ نگر کبھی نہ کبھی

طفیل حضرت خیر البشر کبھی نہ کبھی خدا کرے گا خطا درگزر کبھی نہ کبھی عطا ہو اذنِ حضوری جو آپ کی آقا "ضرور جاؤں گا طیبہ نگر کبھی نہ کبھی" اسی طلب میں درود ان پہ پڑھ کے سوتا ہوں کہ ہوگی دیدِ شہِ بحر و بر کبھی نہ کبھی ستمگروں سے یہ کہتے تھے غم کے مارے ہوئے  سکوں سے ہوگا ہمارا بسر کبھی نہ کبھی رسول پاک کی سیرت پہ چل کے اے الیاس بنوگے دہر میں تم تاجور کبھی نہ کبھی

مسرت نہ پوچھئے

ذکرِ شہِ امم کی حلاوت نہ پوچھئے ہوتی ہے کیسے دل کو مسرت نہ پوچھئے  جس کو لگا کے زہر بھی کافور ہوگیا سرکار کے لعاب کی برکت نہ پوچھئے ہم عاصیوں کے واسطے ہر اک مقام پر " سلطانِ دو جہاں کی محبت نہ پوچھئے " ناموسِ مصطفےٰ پہ جو قربان ہو گیا اس کا مقام اس کی تو عظمت نہ پوچھئے  عشقِ نبی میں ڈوب کے پڑھتا ہوں جب نماز پاتا ہوں کیسی چاشنی راحت نہ پوچھئے کھچڑا ملیدہ دیو کو بدعت لگے مگر کوے سے ان کو کیسی ہے رغبت نہ پوچھئے الیاؔس کربلا کی دہکتی زمین پر شیرِ خدا کے لعل کی جرأت نہ پوچھئے

لاجواب ہے

بےمثل و بے مثال ہے تو لاجواب ہے ذرہ تری گلی کا جو ہے ماہتاب ہے تاریکیاں زمانے سے کافور ہوگئیں آقا جو رخ سے آپ کے اٹھا نقاب ہے جب سے قدم پڑے ہیں رسول انام کے *طیبہ میں ہر مرض کی دوا دستیاب ہے* چوما ہے کامیابی نے اس کے قدم شہا جو بھی تمہارے در سے ہوا باریاب ہے پل میں شفا ملی ہے قتادہ کی آنکھ کو جب اس میں شاہ دیں نے لگایا لعاب ہے اس پر برستی رہتی ہے لعنت خدا کی ، جو مردودِ بارگاہِ رسالت مآب ہے الیاؔس گر رسول کی چشمِ عطا ہوئی رب کے حضور پھر ترا آساں حساب ہے

آپ آئے حضور

جہاں میں جیتے رہیں بن کے ہم فدائے حضور یہ دل ہمارا رہے بن کے آشنائے حضور عیاں ہے آیتِ تحویلِ قبلہ سے نجدی رضائے رب بھی وہی ہے جو ہے رضائے حضور سنہری جالی ہو پیشِ نظر تو لب پہ درود قضا ہمیں بھی اسی کیفیت میں آئے حضور بروز حشر صفی و نجی ذبیح و خلیل  کریں گے اول و آخر سبھی ثنائے حضور کسی کو چاہیے دولت کسی کو جاہ و جلال *ہمارے واسطے کافی ہے بس عطائے حضور* جہان والے جسے کہہ رہے تھے یثرب وہ شفا کا بن گیا مرکز جو آپ آئے حضور غموں کی دھوپ سے الیاس کیسے گھبرائے تمہارے لطف و کرم کے ہیں اس پہ سائے حضور

مدینہ جائیں گے

آقا کا جب ہوگا بلاوا شہرِ مدینہ جائیں گے رودادِ غم ان سے کہیں گے زخم جگر دکھلائیں گے جانِ رحمت شاہِ مدینہ شان نرالی جن کی ہے محشر کے دن اوّل و آخر گیت انہیں کے گائیں گے نورِ وحدت ماہِ نبوت آپ کا سن کر ذکرِ پاک ایماں ہم ضوبار کریں گے شیشئہ دل چمکائیں گے ہوں گے رسوا وہ نہ کہیں خوب ملے گی عزت بھی فخرِ عالم آپ کی سیرت جو بھی قسم اپنائیں گے چھٹ جائیں گےغم کے بادل خوشیاں ملیں گی یارو ہر پل "دو جگ کے سلطان محمد نظرِ کرم فرمائیں گے" رکھتے ہیں جو دل میں نفرت چھوڑیں جو آقا کی سنت روزِ محشر وہ سب الیاس پیشِ خدا پچھتائیں گے

مدح و ثنا کرتے ہیں

کبھی طہ کبھی یسین کہا کرتے ہیں مصطفیٰ پیارے کی جب مدح و ثنا کرتے ہیں زندگی میں وہی شاداب رہا کرتے ہیں جو شہ دیں کی محبت میں جیا کرتے ہیں جو ہیں محبوب خدا اور سراپا رحمت "میری امید سے بڑھ کر وہ عطا کرتے ہیں" دامنِ رحمت عالم سے ہیں جو وابستہ در بدر وہ نہ زمانے میں پھرا کرتے ہیں گلشنِ ہستی میں آجاتی ہے اک دم سی بہار نغمۂ صل علی جب بھی پڑھا کرتے ہیں یارو! مشکل کا بھی ہوجاتا ہے رستہ مشکل نام جب شاہ دوعالم کا لیا کرتے ہیں ختم دنیا سے خدا کردے کرونا کا عذاب صدقے حسنین کے ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں رنج و غم کے ہیں جو مارے نہیں جن کے یاور ان کے دامن میں وہ الیاس چھپا کرتے ہیں

فضیلت بہت ہے

درِ مصطفیٰ کی فضیلت بہت ہے شرافت بزرگی کرامت بہت ہے بلا شبہ ہر ایک خلقِ خدا پر " مِرے مصطفیٰ کی عنایت بہت ہے " کہیں جس کو عشاق کعبے کا کعبہ وہ طیبہ نگر خوبصورت بہت ہے درودوں کی کثرت کریں آپ ہر دم  خدا کی قسم اس میں لذت بہت ہے صحابہ سے آل نبی سے ہے الفت  یہ نعمت برائے شفاعت بہت ہے وہ اپنے ہوں یا غیر دیتے ہیں سب کو شہِ بحر و بر کی سخاوت بہت ہے جو الیاؔس نے پائی مدحت کی دولت بفضلِ خدا یہ سعادت بہت ہے

حبیب خدا خاتم الانبیاء

مظہر کبریا خاتم الانبیا رتبہ اعلیٰ ترا خاتم الانبیا تم سے ہے آسرا خاتم الانبیا کردو لطف و عطا خاتم الانبیا محترم محتشم جگ میں بعد خدا ہیں حبیبِ خدا خاتم الانبیا ہیں دعائے خلیل و نویدِ مسیح ذاتِ شاہِ ہدیٰ خاتم الانبیا خالقِ کل جہاں نے کیا ہے تجھے " شاہِ ہر دوسرا خاتم الانبیا " موت آ جائے الیاؔس کو پڑھتے ہی نعت شاہ ہدیٰ خاتم الانبیا

گنگناتے جائیں گے

روح کو آقا کی الفت میں رچاتے جائیں گے دل کو ان کی یاد کا شیشہ بناتے جائیں گے روضئہ سرکار پر جب حاضری ہوگی کبھی نغمۂ صلِّ علیٰ ہم گنگناتے جائیں گے شدت محشر سے راحت اس گھڑی مل جائے گی چادرِ رحمت میں جب آقا چھپاتے جائیں گے جن کے دل میں ہے محبت مصطفےٰ کے آل کی باغ جنت دیکھنا وہ مسکراتے جائیں گے منعقد کرکے رسولِ پاک کی میلاد ہم " مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے " جو شہیدِ عشقِ شاہِ بحروبر الیاؔس ہیں وہ سرِ شمشير بھی قرآں سناتے جائیں گے

شب معراج

کریں گے کیوں نہ ترا تذکرہ شب معراج ہے ذکر قرآں میں جب کہ ترا شبِ معراج ہوا ہے اول و آخر کا معنیٰ بھی ظاہر بنے جب آقا مرے مقتدا شبِ معراج نہ ہو سکا جو شرف اور نبیوں کو حاصل ملا وہ آپ کو شاہ ہدیٰ شب معراج زمیں میں دھومیں مچی تھی فلک پہ شادی رچی سماں تھا خوب نرالا نیا شبِ معراج بشر کا اوڑھے لباده وہ عرش کے آگے " خدا سے ملنے گئے مصطفیٰ شبِ معراج " کجی ہے جن کے دلوں میں وہ آج بھی الیاؔس سوال کرتے ہیں ہم سے ہے کیا شبِ معراج