آپ آئے حضور
جہاں میں جیتے رہیں بن کے ہم فدائے حضور
یہ دل ہمارا رہے بن کے آشنائے حضور
عیاں ہے آیتِ تحویلِ قبلہ سے نجدی
رضائے رب بھی وہی ہے جو ہے رضائے حضور
سنہری جالی ہو پیشِ نظر تو لب پہ درود
قضا ہمیں بھی اسی کیفیت میں آئے حضور
بروز حشر صفی و نجی ذبیح و خلیل
کریں گے اول و آخر سبھی ثنائے حضور
کسی کو چاہیے دولت کسی کو جاہ و جلال
*ہمارے واسطے کافی ہے بس عطائے حضور*
جہان والے جسے کہہ رہے تھے یثرب وہ
شفا کا بن گیا مرکز جو آپ آئے حضور
غموں کی دھوپ سے الیاس کیسے گھبرائے
تمہارے لطف و کرم کے ہیں اس پہ سائے حضور
Comments
Post a Comment