یا شہ جیلاں
مری بھی زندگی میں آئے نکہت یا شہِ جیلاں مہک جائے گلِ عشق و محبت یا شہِ جیلاں بخارا ہو کہ ہو اجمیر یا کلیر کی دھرتی ہو ہے برسا سب پہ تیرا فضل و رحمت یا شہِ جیلاں تمہارا نام کرتا ہے عطا ساحل غموں سے اور "تمہارے ذکر سے ملتی ہے راحت یا شہِ جیلاں" ہے جگ میں خائب و خاسر نہیں اس کا کوئی ہمدم نہیں تجھ سے ہے جس کو بھی عقیدت یا شہِ جیلاں کرے جو خامہ فرسائی یہ *کاوش* شان میں تیری ہے اعلیٰ اس سے تیری عز و عظمت یا شہِ جیلاں