Posts

Showing posts with the label منقبت

یا شہ جیلاں

مری بھی زندگی میں آئے نکہت یا شہِ جیلاں مہک جائے گلِ عشق و محبت یا شہِ جیلاں بخارا ہو کہ ہو اجمیر یا کلیر کی دھرتی ہو ہے برسا سب پہ تیرا فضل و رحمت یا شہِ جیلاں تمہارا نام کرتا ہے عطا ساحل غموں سے اور "تمہارے ذکر سے ملتی ہے راحت یا شہِ جیلاں" ہے جگ میں خائب و خاسر نہیں اس کا کوئی ہمدم  نہیں تجھ سے ہے جس کو بھی عقیدت یا شہِ جیلاں کرے جو خامہ فرسائی یہ *کاوش* شان میں تیری  ہے اعلیٰ اس سے تیری عز و عظمت یا شہِ جیلاں

پہچان ہیں احمد رضا

لؤلؤ و مرجان ہیں احمد رضا صاحبِ عرفان ہیں احمد رضا عاشقانِ مصطفیٰ صلِّ علی آپ پر قربان ہیں احمد رضا حق و باطل جاننے کے واسطے دوستو! پہچان ہیں احمد رضا معترف اس بات پہ ہے ہر کوئی *"عاشقی کی جان ہیں احمد رضا"* جس کی بو سے سنیت ہے مشکبار وہ گلِ ریحان ہیں احمد رضا کہ اٹھے " اقبال " پڑھ کر فتوے کو پرتوِ " نعمان " ہیں احمد رضا

پیام رضا

جہاں میں بڑا احترامِ رضا ہے کہ لاریب عالی مقامِ رضا ہے جو اعدائے شاہِ دوعالم ہیں‌ ، ان سے نہ رکھ واسطہ یہ پیامِ رضا ہے جو عاشق کے دل کی کرے ترجمانی بفضلِ خدا وہ سلامِ رضا ہے اسے دیو کے بندے بہکا نہ پائیں پیا جس نے " اختر" سے جامِ رضا ہے اسی پر ہو نازاں یہ الیاس یارو زمانہ کہے گر غلامِ رضا ہے

سیدی احمد رضا

معتمد ہیں مستند ہیں سیدی احمد رضا اہل حق کے واسطے ہیں روشنی احمد رضا مصطفیٰ سے کام رکھو غیر سے رکھو نہ کام دے گئے پیغام دنیا کو یہی احمد رضا اپنی خوشبو سے معطر ہم کو بھی کر دو کبھی " تم گل برکاتیت ہو سیدی احمد رضا " فضلِ حق سے آپ نے ان کو کیا ہے بے نقاب  بن کے رہبر کرتے تھے جو رہزنی احمد رضا ہر کسی کو آپ کی نسبت پہ فخر و ناز ہے قادری برکاتی ہو یا اشرفی احمد رضا اہل باطل سے ہمیں الیاس لڑنے کے لئے دے گئے ہتھیار ہم کو قیمتی احمد رضا

ظلم کا کاٹا گلہ شبیر نے

یہ نہ پوچھو کیا کیا مردِ خدا شبیر نے ؟ حرمتِ دیں کو نہیں مٹنے دیا شبیر نے عرش نے بھی ان کا اس دم بڑھ کے بوسہ لے لیا شکرِ رب میں جب کیا سجدہ ادا شبیر نے کیا کوئی کر پائے گا ایسی سخاوت دوستو! جیسی کی ہے فاتحِ کرب و بلا شبیر نے شمعِ دیں کو کردیا روشن ہمیشہ کےلئے اپنا کنبہ کرکے قرباں پارسا شبیر نے ہے وہاں کا ذرہ ذرہ اس پہ شاہد بالیقیں "کربلا میں ظلم کا کاٹا گلا شبیر نے"   زندگی الیاس اس کی ہوگئی ہے پرضیا جس کسی پہ ڈالی ہے چشمِ عطا شبیر نے 

تاج الشریعہ کا

زباں پر ہے مرے نغمہ مرے تاج الشریعہ کا ہے دل پر آج بھی قبضہ مرے تاج الشریعہ کا دِوانے مانگنے آ روضہ مرے تاج الشریعہ کا ہے بہتا فیض کا دریا مرے تاج الشریعہ کا جمالِ حجۃالاسلام کمالِ مفتئ اعظم سراپا یارو تھا ایسا مرے تاج الشریعہ کا عصائے موسوی بن کر ہر اک نجدی وہابی پر قلم بھی خوب ہے چمکا مرے تاج الشریعہ کا حدیث مصطفیٰ سے اور کلام اللہ سے بیشک مزین ہے ہر اک فتویٰ مرے تاج الشریعہ کا زمانہ ہوگیا ہے پر نہیں بھولا ہوں میں اب تک *"منور چاند سا چہرہ مرے تاج الشریعہ کا"* شرف کعبہ کی مہمانی کا انہیں حاصل بھی ہے الیاس بلند رب نے کیا رتبہ مرے تاج الشریعہ

رضا کے نغمے

کیونکر نہ سب کے دل کو بھائے رضا کے نغمے ہیں مثل ماہ پارے میرے رضا کے نغمے عشق و ادب کی دولت شہر رضاسے لے کر شہر مدینہ چلئے پڑھتے رضا کے نغمے حاصل ہے فضل رب سے سنی کو نعمتیں یہ غوث الورٰی کے مرغے پیارے رضا کے نغمے عشق نبی اکرم کا ہے صلہ یہ واللہ "کو کو میں بلبلوں کی گونجے رضا کے نغمے" اردو ادب کی بیشک ہے شاہکار اعلی عشق و وفا کی بو سے مہکے رضا کے نغمے الیاس عاشقوں کے ہے دل کی ترجمانی اچھے رضا کے نغمے سچے رضا کے نغمے

دربار یا خواجہ

دکھادو اب مجھے بھی اپنا رخ یک بار یا خواجہ مری آنکھیں ہیں کب سے طالبِ دیدار یاخواجہ تمہارے میکدے کا جو ہوا مے خوار یا خواجہ دوعالم میں وہ خوشیوں سے ہوا سرشار یاخواجہ مسیحا بن کے بھارت کی زمیں پر آپ جو آۓ  تو ہارا کفر جیتا دین آخر کار یاخواجہ نگاہِ فیض سے وہ صاحبِ دستار کہلائے  جو تھے دنیا کی نظروں میں ذلیل و خوار یا خواجہ بھلا مانوس مخلوقِ خدا تجھ سے نہ کیونکر ہو ہے راضی تجھ سے جب دنیا کا پالنہار یا خواجہ خدارا کیجئے امداد اب اپنے غلاموں کی عدوِّ دیں ہیں اکثر در پئے آزار یا خواجہ تِرا دیوانہ بولیں دیکھ کر مجھ کو جہاں والے " رہوں الفت میں تیری اس طرح سرشار یا خواجہ " بھلا الیاؔس ہو کیونکر درِ اغیار کا شیدا بنایا تونے جب اپنا سگِ دربار یا خواجہ

خواجہ پیا غریب نواز

کرکے مجھ پر دَیا غریب نواز مجھ کو اپنا بنا غریب نواز صرف فرشی نہیں ہیں عرشی بھی تیرا نغمہ سرا غریب نواز خلق کو رب سے جوڑنے تیرا " ہند آنا ہوا غریب نواز " تیرے دربار کے ہیں خوشہ چیں تاجور ، اغنیا غریب نواز جانتے سب ہیں تو ہے بندہ نواز اور در ہے ترا غریب نواز ہند میں خوشبو دین کی پھیلی تجھ سے بیشک شہا غریب نواز ہند کے راجا ہیں وہی الیاؔس جو ہیں خواجہ پیا غریب نواز

شاہ بغداد غوث الوریٰ

قطب و ابدال اوتاد غوث الوریٰ ہیں تیرے فیض سے شاد غوث الوریٰ مرجعِ اولیا نازشِ اصفیا  "آپ ہیں شاہِ بغداد غوث الوریٰ" دستگیری غلاموں کی وہ کرتے ہیں سنتے ہیں سب کی فریاد غوث الوریٰ جس پہ ڈالی شہا تونے چشمِ کرم ہوگیا ہے وہ آباد غوث الوریٰ عشق و الفت میں تیرے ہی جیتی رہے عمر بھر میری اولاد غوث الوریٰ تیرے دربار کے مرغ کو بالیقیں پھانس پائے نہ صیاد غوث الوریٰ تیرا فیض و کرم برسے الیاؔس پر زندگی اس کی ہو شاد غوث الوریٰ

مخدوم کلیری کا

جگ میں ہے خوب چرچا مخدوم کلیری کا پڑھتے ہیں سب ہی خطبہ مخدوم کلیری کا تجھ سے فنا بقا کا مطلب جو کوئی پوچھے اس کو سنادو قصہ مخدوم کلیری کا مقصود تھا خدائے برتر کی مرضی پانا بارہ برس نہ کھانا مخدوم کلیری کا محبوب بن گیا وہ سب کی نظر میں یارو  *"دل سے ہوا جو شیدا مخدوم کلیری کا"* ہوں گی مرادیں ساری پوری ہمارے دل کی فیضان ہو جو ادنیٰ مخدوم کلیری کا وہ دن بھی آئے یارب الیاؔس جاکے کلیر لکھے قصیدہ پیارا مخدوم کلیری کا

حسین ابن علی

 تمہارے نام کا سکہ حسین ابنِ علی سدا کھنکتا رہے گا حسین ابنِ علی لہو بنا کے مصلیٰ حسین ابنِ علی کیا ہے آپ نے سجدہ حسین ابنِ علی وفا کا حسنِ صحیفہ حسین ابنِ علی ہیں صابرین میں اعلیٰ حسین ابنِ علی ہیں کہتے کس کو عزیمت بتا گئے بیشک " نواسۂ شہِ طیبہ حسین ابن علی " مقامِ صبر تھا ورنہ ابلتے چشمے کئی جو کرتے ادنیٰ اشارہ حسین ابنِ علی یزیدی ہوگئے سب لاجواب سنتے ہی دیا جو آپ نے خطبہ حسین ابنِ علی کرم تمہارا اسے بڑھ کے تھام لیتا ہے جہاں بھی جس نے پکارا حسین ابنِ علی قصیدہ تیرا جو الیاؔس نے لکھا ہے وہ بنے نجات کا ذریعہ حسین ابنِ علی

خون حلال

 *وہ خوش نصیب اور بڑا باکمال ہے*   *فیضِ حسین پاک سے جو مالامال ہے*   *آلِ نبی کا پیار اسی دل میں ہے بسا*   *جس کی رگوں میں دوڑتا خونِ حلال ہے*   *اپنے تو خیر اپنے یہ کہتے ہیں غیر بھی*   *" ذاتِ حسین صبر و رضا کی مثال ہے "*   *جب چاہیں آپ کیجیے ذکرِ حسینِ پاک*   *اس کے لئے نہ خاص کوئی ماہ و سَال ہے*   *نامِ حسین پاک جو آیا زبان پر*   *فضلِ خدا سے فکر نے پائی کمال ہے*   *کی جس کسی نے آلِ پیمبر سے دشمنی*   *الیاؔس اس کا خُلد میں جانا محَال ہے* 

درود شریف

 اے غم کے  مارے!  بکثرت  درود  پڑھتا  رہ کریں   گے   آقا   عنایت    درود  پڑھتا  رہ برستی  خوب ہے  رحمت  درود  پڑھتا  رہ قبول   ہوگی    عبادت   درود    پڑھتا   رہ خدا  کی  ہوگی  اطاعت   درود  پڑھتا  رہ ملائکہ  کی   ہے    سنت   درود   پڑھتا  رہ ملے  گی  فکر  کو  قوت   درود پڑھتا  رہ زباں  کو  ملتی  ہے  لذت  درود  پڑھتا  رہ نشاط   پائے  گی  سیرت  درود  پڑھتا  رہ ملے  گی  روح  کو  لذت  درود  پڑھتا  رہ خدا کا حکم ہے "صلوا علیہ " کا قرآں میں  "سجا کے لب  پہ مسرت  درود پڑھتا  رہ" ہیں اس میں دونوں جہاں کی سعادتیں الیاؔس اگر   ہے   پانا   سعادت   درود  پڑھتا...

مولیٰ حسین کا ہوگا

ہر ایک لب پہ ترانہ حسین کا ہوگا کہ بچہ بچہ بھی شیدا حسین کا ہوگا نظامِ جبر مٹانا ہو جو زمانے سے  جگانا دل میں تو جذبہ حسین کا ہوگا ہے اتری ان کی طہارت پہ آیتِ قرآں عظيم کتنا گھرانہ حسین کا ہوگا دلوں میں جن کے ہو اصحابِ پاک کی الفت وہ خوش نصیب تو شیدا حسین کا ہوگا مرا مٹا ہے یقیناً یزیدیت لیکن "جدھر بھی جاؤ علاقہ حسین کا ہوگا" ہیں کہتے کس کو عزیمت جواب میں اس کے کہا یہ عشق نے مولیٰ حسین  کا ہوگا وہ بحرِ غم سے کنارہ تو پا ہی لیتا ہے کہ پاس جس کے سفینہ  حسین کا ہوگا تکے بھی غیر کا منہ کیوں یہ ناتواں الیاؔس اسے تو کافی ہی ٹکڑا حسین کا ہوگا

عرس رضوی میں

وفا کے پاٹھ پڑھائیں گے عرس رضوی میں دلوں میں آس جگائیں گے عرسِ رضوی میں مشن رضا کا بتائیں گے عرسِ رضوی میں پیامِ حق بھی سنائیں گے عرسِ رضوی میں بصد خلوص جو جائیں گے عرسِ رضوی میں "رضا کا فیض وہ پائیں گے عرس رضوی میں" پڑھائیں بچوں کو کھا کرکے آدھی ہی روٹی یہ عہد سب کو دلائیں گے عرسِ رضوی میں تھے اپنے آپ میں اک جامعہ میرے حضرت  زمانے کو یہ بتائیں گے عرسِ رضوی میں جو عرسِ تاج شریعت میں رخنہ ڈالے تھے سبق ہم ان کو سکھائیں گے عرسِ رضوی میں رضا کے نام پہ الیاؔس ان کے دیوانے نبی کی بزم سجائیں گے عرسِ رضوی میں

تاجدارِ بریلی

دل و جان کرکے نثارِ بریلی چلو دیکھنے مرغزارِ بریلی شہِ دیں کے عاشق خدا کے ولی سے بڑھی عزّ و شان و وقارِ بریلی فقاہت میں تھے مظہرِ بو حنیفہ یقیناً مرے تاجدارِ بریلی جنہیں مل گئی صحبتِ اعلی حضرت ہوئے وہ سبھی افتخارِ بریلی مٹا کرکے بدعت کئے زندہ سنت "سلام آپ پر تاجدارِ بریلی زمانہ جنہیں اعلی حضرت کہا ہے ہیں الیاؔس وہ شاہکارِ بریلی

مشکل کشا ہیں حضرت مولیٰ علی

ذوالفقارِ مصطفیٰ ہیں حضرت مولیٰ علی شیرِ حق شیرِ خدا ہیں حضرت مولیٰ علی پیشوائے اولیا ہیں حضرت مولیٰ علی زاہدوں کے مُقتدا ہیں حضرت مولیٰ علی مشکلیں کیوں نہ ٹلیں میری  بھلا اے مومنو جب میرے کشا ہیں حضرت مولیٰ علی وہ بھٹک سکتا نہیں ہے راہِ حق سے بالیقیں  جس کسی کے رہنما ہیں حضرت مولیٰ علی قادریت چشتیت ہو یا ہو جو بھی سلسلے  ہر کسی کے منتہا ہیں حضرت مولیٰ علی پست ہوجائیں عدو کے حوصلے بھی دیکھ کر رکھتے ایسا دبدبہ ہیں حضرت مولیٰ علی دیکھ کے شانِ سخاوت کہ اٹھے اہلِ خرد " مصدرِ جود و سخا ہیں حضرت مولیٰ علی  " دوستو ہیں وہ شریعت اور طریقت کے امام مجمع البحرین سا ہیں حضرت مولیٰ علی شانِ دامادِ پیمبر میں  لکھے الیاؔس جو بالیقیں اس سے ورا ہیں حضرت مولیٰ علی

مسلمان کردیا

خواجہ پیا نے ہند پہ احسان کردیا کلمہ پڑھاکے سب کو مسلمان کردیا  اک چھوٹے سے کٹورے میں ساگر سمیٹ کر بُت کے پجاریوں کو بھی حیران کردیا خواجہ نے خاک کرکے اجے پال کا غرور  توبہ کراکے صاحبِ ایمان کردیا  آیا جو دل میں اپنے تمنا لئے ہوئے  خواجہ نے پورا اس کا بھی ارمان کردیا  کچھ بھی نہیں تھا پہلے یہ الیاؔس دوستو  فیضِ معین نے اسے ذیشان کردیا 

چشمِ کرم غریب نواز

بلند حق کا ہوا ہے علم غریب نواز پڑے ہیں ہند میں جب سے قدم غریب نواز لگی ہے بالیقیں کشتی بھی اس کی ساحل پہ ہوا ہے آپ کا جس پہ کرم غریب نواز عطا ہو صدقئہ ہارونی مجھ کو بھی خواجہ میرے بھی دور ہوں رنج و الم غریب نواز تمام عمر نہ چھوڑوں گا در تِرا ہرگز لگا لیں لاکھ عدو اپنا دم غریب نواز کھڑے ہیں ہاتھ میں کشکول خالی لےکے ہم " ادھر بھی کیجئے چشمِ کرم غریب نواز " کہا ہے آپ سے جیپال گرکے قدموں پر بنالیں اب مجھے خاکِ قدم غریب نواز عطا ہو ناتواں الیاؔس کو بھی ذوقِ سخن چلے نبی کی ثنا میں قلم غریب نواز