دربار یا خواجہ

دکھادو اب مجھے بھی اپنا رخ یک بار یا خواجہ
مری آنکھیں ہیں کب سے طالبِ دیدار یاخواجہ

تمہارے میکدے کا جو ہوا مے خوار یا خواجہ
دوعالم میں وہ خوشیوں سے ہوا سرشار یاخواجہ

مسیحا بن کے بھارت کی زمیں پر آپ جو آۓ 
تو ہارا کفر جیتا دین آخر کار یاخواجہ

نگاہِ فیض سے وہ صاحبِ دستار کہلائے 
جو تھے دنیا کی نظروں میں ذلیل و خوار یا خواجہ

بھلا مانوس مخلوقِ خدا تجھ سے نہ کیونکر ہو
ہے راضی تجھ سے جب دنیا کا پالنہار یا خواجہ

خدارا کیجئے امداد اب اپنے غلاموں کی
عدوِّ دیں ہیں اکثر در پئے آزار یا خواجہ

تِرا دیوانہ بولیں دیکھ کر مجھ کو جہاں والے
" رہوں الفت میں تیری اس طرح سرشار یا خواجہ "

بھلا الیاؔس ہو کیونکر درِ اغیار کا شیدا
بنایا تونے جب اپنا سگِ دربار یا خواجہ

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے