حسین ابن علی
تمہارے نام کا سکہ حسین ابنِ علی
سدا کھنکتا رہے گا حسین ابنِ علی
لہو بنا کے مصلیٰ حسین ابنِ علی
کیا ہے آپ نے سجدہ حسین ابنِ علی
وفا کا حسنِ صحیفہ حسین ابنِ علی
ہیں صابرین میں اعلیٰ حسین ابنِ علی
ہیں کہتے کس کو عزیمت بتا گئے بیشک
" نواسۂ شہِ طیبہ حسین ابن علی "
مقامِ صبر تھا ورنہ ابلتے چشمے کئی
جو کرتے ادنیٰ اشارہ حسین ابنِ علی
یزیدی ہوگئے سب لاجواب سنتے ہی
دیا جو آپ نے خطبہ حسین ابنِ علی
کرم تمہارا اسے بڑھ کے تھام لیتا ہے
جہاں بھی جس نے پکارا حسین ابنِ علی
قصیدہ تیرا جو الیاؔس نے لکھا ہے وہ
بنے نجات کا ذریعہ حسین ابنِ علی
Comments
Post a Comment