چشمِ کرم غریب نواز

بلند حق کا ہوا ہے علم غریب نواز
پڑے ہیں ہند میں جب سے قدم غریب نواز

لگی ہے بالیقیں کشتی بھی اس کی ساحل پہ
ہوا ہے آپ کا جس پہ کرم غریب نواز

عطا ہو صدقئہ ہارونی مجھ کو بھی خواجہ
میرے بھی دور ہوں رنج و الم غریب نواز

تمام عمر نہ چھوڑوں گا در تِرا ہرگز
لگا لیں لاکھ عدو اپنا دم غریب نواز

کھڑے ہیں ہاتھ میں کشکول خالی لےکے ہم
" ادھر بھی کیجئے چشمِ کرم غریب نواز "

کہا ہے آپ سے جیپال گرکے قدموں پر
بنالیں اب مجھے خاکِ قدم غریب نواز

عطا ہو ناتواں الیاؔس کو بھی ذوقِ سخن
چلے نبی کی ثنا میں قلم غریب نواز

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے