مولیٰ حسین کا ہوگا
ہر ایک لب پہ ترانہ حسین کا ہوگا
کہ بچہ بچہ بھی شیدا حسین کا ہوگا
نظامِ جبر مٹانا ہو جو زمانے سے
جگانا دل میں تو جذبہ حسین کا ہوگا
ہے اتری ان کی طہارت پہ آیتِ قرآں
عظيم کتنا گھرانہ حسین کا ہوگا
دلوں میں جن کے ہو اصحابِ پاک کی الفت
وہ خوش نصیب تو شیدا حسین کا ہوگا
مرا مٹا ہے یقیناً یزیدیت لیکن
"جدھر بھی جاؤ علاقہ حسین کا ہوگا"
ہیں کہتے کس کو عزیمت جواب میں اس کے
کہا یہ عشق نے مولیٰ حسین کا ہوگا
وہ بحرِ غم سے کنارہ تو پا ہی لیتا ہے
کہ پاس جس کے سفینہ حسین کا ہوگا
تکے بھی غیر کا منہ کیوں یہ ناتواں الیاؔس
اسے تو کافی ہی ٹکڑا حسین کا ہوگا
Comments
Post a Comment