ظلم کا کاٹا گلہ شبیر نے

یہ نہ پوچھو کیا کیا مردِ خدا شبیر نے ؟
حرمتِ دیں کو نہیں مٹنے دیا شبیر نے

عرش نے بھی ان کا اس دم بڑھ کے بوسہ لے لیا
شکرِ رب میں جب کیا سجدہ ادا شبیر نے

کیا کوئی کر پائے گا ایسی سخاوت دوستو!
جیسی کی ہے فاتحِ کرب و بلا شبیر نے

شمعِ دیں کو کردیا روشن ہمیشہ کےلئے
اپنا کنبہ کرکے قرباں پارسا شبیر نے

ہے وہاں کا ذرہ ذرہ اس پہ شاہد بالیقیں
"کربلا میں ظلم کا کاٹا گلا شبیر نے"
 
زندگی الیاس اس کی ہوگئی ہے پرضیا
جس کسی پہ ڈالی ہے چشمِ عطا شبیر نے 

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے