لاجواب ہے
بےمثل و بے مثال ہے تو لاجواب ہے
ذرہ تری گلی کا جو ہے ماہتاب ہے
تاریکیاں زمانے سے کافور ہوگئیں
آقا جو رخ سے آپ کے اٹھا نقاب ہے
جب سے قدم پڑے ہیں رسول انام کے
*طیبہ میں ہر مرض کی دوا دستیاب ہے*
چوما ہے کامیابی نے اس کے قدم شہا
جو بھی تمہارے در سے ہوا باریاب ہے
پل میں شفا ملی ہے قتادہ کی آنکھ کو
جب اس میں شاہ دیں نے لگایا لعاب ہے
اس پر برستی رہتی ہے لعنت خدا کی ، جو
مردودِ بارگاہِ رسالت مآب ہے
الیاؔس گر رسول کی چشمِ عطا ہوئی
رب کے حضور پھر ترا آساں حساب ہے
Comments
Post a Comment