طیبہ نگر کبھی نہ کبھی
طفیل حضرت خیر البشر کبھی نہ کبھی
خدا کرے گا خطا درگزر کبھی نہ کبھی
عطا ہو اذنِ حضوری جو آپ کی آقا
"ضرور جاؤں گا طیبہ نگر کبھی نہ کبھی"
اسی طلب میں درود ان پہ پڑھ کے سوتا ہوں
کہ ہوگی دیدِ شہِ بحر و بر کبھی نہ کبھی
ستمگروں سے یہ کہتے تھے غم کے مارے ہوئے
سکوں سے ہوگا ہمارا بسر کبھی نہ کبھی
رسول پاک کی سیرت پہ چل کے اے الیاس
بنوگے دہر میں تم تاجور کبھی نہ کبھی
Comments
Post a Comment