مسرت نہ پوچھئے

ذکرِ شہِ امم کی حلاوت نہ پوچھئے
ہوتی ہے کیسے دل کو مسرت نہ پوچھئے 

جس کو لگا کے زہر بھی کافور ہوگیا
سرکار کے لعاب کی برکت نہ پوچھئے

ہم عاصیوں کے واسطے ہر اک مقام پر
" سلطانِ دو جہاں کی محبت نہ پوچھئے "

ناموسِ مصطفےٰ پہ جو قربان ہو گیا
اس کا مقام اس کی تو عظمت نہ پوچھئے 

عشقِ نبی میں ڈوب کے پڑھتا ہوں جب نماز
پاتا ہوں کیسی چاشنی راحت نہ پوچھئے

کھچڑا ملیدہ دیو کو بدعت لگے مگر
کوے سے ان کو کیسی ہے رغبت نہ پوچھئے

الیاؔس کربلا کی دہکتی زمین پر
شیرِ خدا کے لعل کی جرأت نہ پوچھئے

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے