مدینہ جائیں گے
آقا کا جب ہوگا بلاوا شہرِ مدینہ جائیں گے
رودادِ غم ان سے کہیں گے زخم جگر دکھلائیں گے
جانِ رحمت شاہِ مدینہ شان نرالی جن کی ہے
محشر کے دن اوّل و آخر گیت انہیں کے گائیں گے
نورِ وحدت ماہِ نبوت آپ کا سن کر ذکرِ پاک
ایماں ہم ضوبار کریں گے شیشئہ دل چمکائیں گے
ہوں گے رسوا وہ نہ کہیں خوب ملے گی عزت بھی
فخرِ عالم آپ کی سیرت جو بھی قسم اپنائیں گے
چھٹ جائیں گےغم کے بادل خوشیاں ملیں گی یارو ہر پل
"دو جگ کے سلطان محمد نظرِ کرم فرمائیں گے"
رکھتے ہیں جو دل میں نفرت چھوڑیں جو آقا کی سنت
روزِ محشر وہ سب الیاس پیشِ خدا پچھتائیں گے
Comments
Post a Comment