ماہ میلاد ہے
آؤ اے عاشقو ماہِ میلاد ہے
نعتِ سرور سنو ماہِ میلاد ہے
ابر رحمت کی چھائی ہوئی ہے گھٹا
"ذکر ان کا کرو ماہِ میلاد ہے"
ہم تو خوشیاں منائیں گے اے نجدیو !
تم جلو یا مرو ماہِ میلاد ہے
کیف و مستی میں ڈوبا ہے سارا جہاں
جھومو اے دوستو ماہِ میلاد ہے
بن کے رحمت حبیبِ خدا آگئے
بیٹیو! تم ہنسو ماہِ میلاد ہے
تجھ پہ الیاؔس آقا کا ہوگا کرم
نعتِ ان کی لکھو عید میلاد ہے
Comments
Post a Comment