ورد صلِّ علی کجیے
روز و شب وردِ صلِّ علیٰ کیجیے دور ہوگا اندھیرا کبھی نہ کبھی
نور و نکہت کی برسات سے پرضیا دل کا ہوگا دریچہ کبھی نہ کبھی
جن کی رحمت سے ہوتے ہیں سب فیضیاب اپنے منگتوں کو جو دیتے ہیں بے حساب
ان کی الفت کا قندیل دل میں جلا وہ دکھائیں گے جلوہ کبھی نہ کبھی
دیکھنا ان کے لطف و کرم کے طفیل اپنے ماں باپ کے ساتھ اے دوستو!
"نعتِ سلطانِ دیں گنگناتا ہوا جاؤں گا شہرِ طیبہ کبھی نہ کبھی"
رحمتِ رب سے مایوس ہرگز نہ ہو رنج و غم کو زوال آئے گا ایک دن
اس کے فضل و کرم سے چمک جائے گا تیری قسمت کا تارا کبھی نہ کبھی
سید الانبیا رب کے محبوب کی دل میں الیاس جس کے ہو الفت بسی
حق تعالیٰ کی رحمت سے وہ بالیقیں پائے گا خاص تحفہ کبھی نہ کبھی
Comments
Post a Comment