گنگناتے جائیں گے
روح کو آقا کی الفت میں رچاتے جائیں گے
دل کو ان کی یاد کا شیشہ بناتے جائیں گے
روضئہ سرکار پر جب حاضری ہوگی کبھی
نغمۂ صلِّ علیٰ ہم گنگناتے جائیں گے
شدت محشر سے راحت اس گھڑی مل جائے گی
چادرِ رحمت میں جب آقا چھپاتے جائیں گے
جن کے دل میں ہے محبت مصطفےٰ کے آل کی
باغ جنت دیکھنا وہ مسکراتے جائیں گے
منعقد کرکے رسولِ پاک کی میلاد ہم
" مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے "
جو شہیدِ عشقِ شاہِ بحروبر الیاؔس ہیں
وہ سرِ شمشير بھی قرآں سناتے جائیں گے
Comments
Post a Comment