محبوب کبریا آئے
بچانے نار سے محبوب کبریا آئے
ہمیں وہ خلد کا دکھلانے راستہ آئے
نہ جان پائے حقیقت مکین سدرہ جب
کسی کی عقل میں کیا شانِ مصطفیٰ آئے
خدا کے رحمت و انوار کا بنا مصدر
حلیمہ جب ترے گھر شاہِ انبیا آئے
وہ دیکھو سر پہ شفاعت کا تاج پہنے ہوئے
"انا لہا کی صدا لے کے مصطفیٰ آئے"
درود لب پہ ہو اور سامنے مدینہ ہو
دعا ہے رب سے اسی حال میں قضا آئے
درود پاک سے اپنے لبوں کو تر رکھنا
ترے قریب کبھی کوئی جو بلا آئے
سجائی ہم نے زمین پر جو نعت کی محفل
فرشتے لے کے یہاں رحمت خدا آئے
وہابیوں نے کیا دینِ حق پہ جب حملہ
تو بن کے سیف الہی مرے رضا آئے
لبوں پہ نعت سجا کر میں جاؤں گا کاوش
بلاوا آئے مدینے سے تو مزہ آئے
Comments
Post a Comment