دیوان لہلہائے گا

ثنا کے پھول سے دیوان لہلہائے گا
بیاضِ نعت پہ جب خامہ مسکرائے گا

جو لےکے حسنِ عمل اپنے ساتھ جائے گا
مقام اپنا وہ باغِ جناں میں پائے گا

نگاہِ لطف و کرم جس پہ ڈال دیں آقا
کہیں بھی جائے وہ ہرگز نہ مات کھائے گا

بلال بولے امیہ جو چاہے کرلے تو
خیالِ شاہِ مدینہ نہ دل سے جائے گا

مَلا ہے جس نے بھی رخ پر مدینے کا غازه
وہ جگمگاتا ہے تاحشر جگمگائے گا

ٹھکانہ تیرا ہے گستاخ جب جہنم میں
"بروزِ حشر تو جنت میں کیسے جائے گا ؟"

نبی کے شہر میں جاکر کروں گا نعتیں رقم
مرے نصیب میں یہ دن ضرور آئے گا

نبی کا ذکر ہی الیاؔس زیست میں تیرے
سکون و چین کے لمحات خوب لائے گا

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے