تضمین بر کلام جد الشعرا
پائے مقدّر چمکا ، چاند
رشکِ سورج ہوگا چاند
سمجھے نعمتِ عُظمٰی چاند
"پائے جو "خاکِ مدینہ" چاند"
"رخ پہ ملے یہ " غازه " چاند"
زورِ ہوا سے نہ ڈوبے کشتی
صبح و مسا دُھن ایک رہی
ٹوٹے نہ رشتہ اِن سے کبھی
"مذہب ، آل ، صحابی ، نبی"
"دھار ، سفینہ ، تارا ، چاند"
مخزنِ عرفان و انوار
نبیوں کے خاتم اور سردار
عاصی امت کے غمخوار
"جمع صحابہ میں سرکار"
"جیسے محاطہ ہالہ چاند"
شمع کے کیا پروانے تھے
طرزِ تلاش کو جانے تھے
گُل کی مہک پہچانے تھے
"بو پہ ستارے چلتے تھے"
"ڈھونڈنے اپنا مہکا چاند"
ہے الیاس ! یہی عرضی
چَھٹ جائے ہر بدلی کالی
حسرت ہے مدّت سے دل کی
"ایک جھلک امجؔد کو بھی"
"آئے نظر طیبہ کا چاند "
Comments
Post a Comment