تضمین بر کلام فریدی

رکھتے ہیں پاس میں ہم سب سے نرالا تعویذ
ہر مصیبت میں یہ دیتا ہے سہارا تعویذ
آپ کے نام کا جب سے ہے سنبھالا تعویذ
"ہم نے ہر گز نہ کسی غیر کا پہنا تعویذ"
"ہر نفس آپ کی یادوں کو بنایا تعویذ"

بہرِ خلقت وہ بشر فیض کا دریا ہو جائے
خدمتِ دیں کےلئے خادمِ اعلیٰ ہوجائے
حق کے طالب کےلئے نور کی برکھا ہوجائے
"آنکھ بھر کر جسے دیکھوں وہی شیدا ہوجائے"
"دل میں پنہاں ہے مرے عشق کا ایسا تعویذ "

آل و اصحاب کے تا عمر رہو بن کے گدا
ان کی الفت میں جیو چھوڑ دو فکرِ دنیا
کیا غرض رافضی ، دیوبندی ، وہابی سے بھلا
"آل و اصحاب کے بارے میں ہو تقلید رضا"
"سو عقیدوں میں ہے یہ ایک عقیدہ تعویذ "

جادۂ حق سے نظر میری ہٹاۓ کیسے
دھوکے سے جال میں صیاد پھنسائے کیسے
رنج و غم آنکھ ہمیں یارو! دکھائے کیسے
"لطف اغیار قریب آئے تو آئے کیسے"
"ہے حصار ان کی عنایت کا ہمارا تعویذ "

بات کرتا ہوں پتے کی اسے سمجھیں نہ مذاق
زہرِ مشکل کے لئے ہے یہ جہاں میں تریاق
ہند کا باسی ہو یا رومی ہو یا اہلِ عراق
" کھل کے آجاتا ہے ، ہوتا ہے اگر دل میں نفاق"
"آزمودہ ہے بہت ذکرِ علی کا تعويذ "

اب نہ الیاس تجھے کوئی بھی ہوگا خطرہ
تجھ پہ آسیب نہ جادو کا کرشمہ ہوگا
نزْع کے وقت بھی ہو گی ترے مرشد کی عطا
"ہے فریدی کے گلے میں ہی محافظ اس کا"
"جو دیا پیر نے اب تک نہیں اترا تعویذ"

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے