لعنت جہیز کی
اچھی نہیں ہے دوستو ! عادت جہیز کی
دل سے نکال ڈالو تم الفت جہیز کی
اس کی وجہ سے کتنے ویران گھر ہوئے
آئی ہوئی ہے جب سے مصیبت جہیز کی
لے کر کٹورا ہاتھ میں در در وہ بھیک مانگے
شادی کرے جو لےکر دولت جہیز کی
ماتم ہے ان کی عقل پر دولت کے ہوتے بھی
رکھتے ہیں دل میں اپنے جو چاہت جہیز کی
کاوش کی ہے دعا یہی رب سے ،کہ دور ہو
مسلم معاشرہ سے یہ لعنت جہیز کی
Comments
Post a Comment