Posts

Showing posts from November, 2021

امن و اماں کا سامراج

 اب چلے گا دہر میں امن و اماں کا سامراج  ہو گئے ہیں جلوہ فرما رب کے وہ محبوب آج وہ محمد مصطفیٰ صلِّ علیٰ کی ذات ہے " جن کو پہنایا گیا ہے رحمتِ عالم کا تاج " ملتی ہے اس کو شفا خاکِ درِ سرکار سے کہتے ہیں جس کو طبیبانِ زمانہ لاعلاج جب زباں پہ انبیا کے ہو گا آقا "اذھبوا" آپ ہی رکھیں گے اس دم ہم گنہگاروں کی لاج دل میں جس کے ہے محبت سیدِ ابرار کی وہ زمانہ سے پرے رہتا ہے ہردم خوش مزاج اس سخی دربار کی الیاؔس لکھے شان کیا ہوتی ہے جس جا بنا بولے ہی پوری احتیاج

رکھنا آبرو یا رب

 عطا کرکے مجھے بھی دولتِ عرفان تو یارب بنادے میری دنیا اور عقبیٰ خوبرو یارب امام الانبیا و المرسلیں شاہِ دوعالم کا  *" مدینہ دیکھ لیں ہم سب یہی ہے آرزو یارب "*  ہماری دوستی ان سے کبھی بھی ہو نہیں سکتی شہِ کون و مکاں سرکار کے ہیں جو عدو یارب تجھے ہے واسطہ شاہِ زمن فخرِ دوعالم کا بروز حشر ہم سب کی تو رکھنا آبرو یارب ثنائے مصطفیٰ کی برکتوں سے ناتواں الیاؔس  یقیناً ہو گیا ہے دو جہاں میں سرخرو یارب

نعت خوان مصطفیٰ

  کیا بیاں ہو پائے ہم سے عِزّ و شانِ مصطفیٰ عقل سے بھی بالا تر ہے جب مکانِ مصطفیٰ باغِ جنت کے ہیں مہماں عاشقانِ مصطفیٰ اور جہنم کی غذا ہیں دشمنانِ مصطفیٰ آرزو باغ جناں کی کیوں کرے گا وہ بھلا دیکھ لے جو چشمِ دل سے گلستانِ مصطفیٰ آیتِ قرآں سے روشن یہ عقیدہ ہے مرا  *"نوری پیکر میں ڈھلا ہے خاندانِ مصطفیٰ"*  رکھ کے ہی پیشِ نظر اپنی " فَحَدِّثْ " کی سند منعقد کی ہم نے بزمِ داستانِ مصطفیٰ رحمت و انوار ہوتی ہے جہاں آٹھوں پہر یاخدا ہم کو دکھا وہ آستانِ مصطفیٰ بالیقیں الیاؔس یہ تو فیضِ نعتِ پاک ہے لوگ کہتے ہیں تجھے جو نعت خوانِ مصطفیٰ

حسین ابن علی

 تمہارے نام کا سکہ حسین ابنِ علی سدا کھنکتا رہے گا حسین ابنِ علی لہو بنا کے مصلیٰ حسین ابنِ علی کیا ہے آپ نے سجدہ حسین ابنِ علی وفا کا حسنِ صحیفہ حسین ابنِ علی ہیں صابرین میں اعلیٰ حسین ابنِ علی ہیں کہتے کس کو عزیمت بتا گئے بیشک " نواسۂ شہِ طیبہ حسین ابن علی " مقامِ صبر تھا ورنہ ابلتے چشمے کئی جو کرتے ادنیٰ اشارہ حسین ابنِ علی یزیدی ہوگئے سب لاجواب سنتے ہی دیا جو آپ نے خطبہ حسین ابنِ علی کرم تمہارا اسے بڑھ کے تھام لیتا ہے جہاں بھی جس نے پکارا حسین ابنِ علی قصیدہ تیرا جو الیاؔس نے لکھا ہے وہ بنے نجات کا ذریعہ حسین ابنِ علی

خون حلال

 *وہ خوش نصیب اور بڑا باکمال ہے*   *فیضِ حسین پاک سے جو مالامال ہے*   *آلِ نبی کا پیار اسی دل میں ہے بسا*   *جس کی رگوں میں دوڑتا خونِ حلال ہے*   *اپنے تو خیر اپنے یہ کہتے ہیں غیر بھی*   *" ذاتِ حسین صبر و رضا کی مثال ہے "*   *جب چاہیں آپ کیجیے ذکرِ حسینِ پاک*   *اس کے لئے نہ خاص کوئی ماہ و سَال ہے*   *نامِ حسین پاک جو آیا زبان پر*   *فضلِ خدا سے فکر نے پائی کمال ہے*   *کی جس کسی نے آلِ پیمبر سے دشمنی*   *الیاؔس اس کا خُلد میں جانا محَال ہے* 

محبت بے لوث

 مدحتِ سیدِ کونین کی دولت بے لوث میرے حصے میں بھی آئی یہ سعادت بے لوث حسنِ اخلاق کا عالم ہے کہ دشمن سے بھی  ظلم کے بدلے وہ کرتے ہیں محبت بے لوث کیجیے صبح و مسا چرچا شہِ بطحا کا مضطرب قلب و جگر پائیں گے راحت بے لوث ڈال دیتا ہے خدا ان کی محبت دل میں  دین و مسلک کی جو کر جاتے ہیں خدمت بے لوث آپ دارین کی نعمت سے مشرف ہوں گے  " کیجیے رحمتِ عالم سے محبت بے لوث " پیکرِ صدق و صفا بن کے وہ چمکے الیاؔس  جن پہ کی شاہِ مدینہ نے عنایت بے لوث

پیارا تعویذ

 ہر بلا سے اسے دے جائے کنارہ تعویذ عشقِ سرکار کا ہے جس نے بھی پہنا تعویذ  مصطفیٰ جانِ دوعالم کی ثنا کا تعویذ ہے ملا رب کی عنایت سے یہ پیارا تعویذ داؤ ابلیس کا ہرگز نہ چلے گا ہم پہ " ہے حصار ان کی عنایت کا ہمارا تعویذ " شاہ ہو یا کہ گدا سب کےلئے یکساں ہے زندگی بخش شہِ دیں کی عطا کا تعويذ حسنِ دنیا کی محبت نہ سمائے دل میں اے مسیحاہو عطا مجھ کو بھی ایسا تعویذ گرمئی حشر سے راحت کےلئے اے الیاؔس سیرتِ شاہِ مدینہ ہے انوکھا تعویذ

برکت کے مزے لوٹ

 آ  پہلے  درودوں  کی  تو  برکت کے  مزے  لوٹ پھر   مدحتِ  آقا  کی  حلاوت  کے مزے  لوٹ سرکارِ  دوعالم   کا   گدا   بن   کے  جہاں  میں  تا  عمر  تو   اللّٰہ   کی   رحمت  کے  مزے لوٹ لانی  ہے   اگر   گلشنِ     ہستی   میں    بہاریں  تو   سرورِ  کونین  کی  سیرت  کے  مزے  لوٹ کیا  رکھا  ہے  دنیا  کی  بہاروں  میں اے ناداں " آ   محفلِ   آقا   میں  مسرت  کے مزے  لوٹ  " ایماں   کو   بچانا   ہے   اگر    کفر  سے  الیاؔس دنیا میں خدا والوں کی صحبت کے مزے لوٹ

قرآنی سوچ

  جس کو ملی ایمانی سوچ ہوتی ہے اس کی پیاری سوچ باتیں نبی کی جب بھی کیں دل مہکا اور مہکی سوچ میں بھی ان کا دیکھوں در رہتی یہی ہے میری سوچ راضی ہوں جس سے سرکار  کام وہی کرنے کی سوچ صلِّ علیٰ پڑھ پڑھ کے لکھ " نعتِ نبی ہے اونچی سوچ " ہوگا حریمِ دل روشن پاس جو ہو قرآنی سوچ میرے خدا الیاؔس کو بھی کر دے عطا نورانی سوچ

روضہ ہے خوبصورت

 آلِ نبی سے جس کا رشتہ ہے خوبصورت دنیا میں اس کا ہرسو چرچا ہے خوبصورت میرے کریم آقا اپنا جسے بھی کہ دیں واللہ اس کی دنیا عقبیٰ ہے خوبصورت سنتا نہیں کبھی بھی " لا " ان کے در کا منگتا سرکار کے کرم کا دریا ہے خوبصورت لگتا ہے عرشیوں کا میلہ وہاں شب و روز  "کس درجہ مصطفیٰ کا روضہ ہے خوبصورت" کرتے رہو عمل بس فرمانِ مصطفیٰ پر گر دوجہاں میں تم کو رہنا ہے خوبصورت الیاؔس نزدِ رب ہے گورا نہ کوئی کالا تقوی شعار بندہ ہوتا ہے خوبصورت

افضل و اعلیٰ ہیں آپ

 مظہرِ شان خدا اور خلق کے داتا ہیں آپ جانِ ایماں شانِ کعبہ افضل و اعلیٰ ہیں آپ جانِ رحمت شاہِ عالم اے رسولوں کے امام " فخرِ آدم فخرِ عیسیٰ سید والا ہیں آپ " آنِ واحد کے لئے بس آپ کو آئی اجل بعدہ تربت میں اپنی یانبی زندہ ہیں آپ آپ کو بخشا خدائے پاک نے ہے علمِ غیب جنتی اور دوزخی کا جانتے چہرہ ہیں آپ کیوں کسی کے در پہ اپنا ہاتھ پھیلائیں حضور جب سخاوت جود کا بہتا ہوا دریا ہیں آپ اے غلامانِ نبی کیوں حشر کا کرتے ہیں غم جب کہ ان کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہیں آپ واسطہ الیاؔس رکھے کیوں بھلا اس شخص سے یاشہِ دیں جس سے بھی ناراض بے پروا ہیں آپ

زیارت سے فیضیاب

 ہو جاؤں کاش ان کی زیارت سے فیضیاب قلب و جگر ہے جن کی عنایت سے فیضیاب اس کی مثال اہل زمانہ نہ لا سکیں  *" جو ہوگیا ہے ان کی عنایت سے فیضیاب "*  بیتِ خدا بھی دیکھئے سجدے کو جھک گیا ہوکر نبی کی شانِ ولادت سے فیضیاب جس دل میں اولیا کی نہیں ہیں محبتیں  ہوگا کبھی نہ رب کی وہ رحمت سے فیضیاب مردہ اسے گمان بھی ہرگز نہ کیجئے بندہ جو ہوگیا ہے شہادت سے فیضیاب الیاؔس " العطش " کی صدا وہ لگائیں کیوں جو ہیں نبی کے دید کے شربت سے فیضیاب

سخاوت روشن

 نورِ ایماں سے ہے تسبیح و تلاوت روشن خانۂ دل میں ہے مولیٰ کی عبادت روشن سارے نبیوں میں ہے آقا کی فضیلت روشن ان کی مدحت میں ہے قرآن کی آیت روشن غمِ دنیا ، غمِ عقبیٰ سے وہ پاتے ہیں نجات  " جس کے سینے میں ہے سرکار کی الفت روشن " کامیابی اسے ملتی ہے زمانے بھر میں جس نے اپنایا ہے سرکار کی سیرت روشن مانگنے والوں کو ملتا ہے طلب سے بڑھ کر دہر میں ہے میرے آقا کی سخاوت روشن آرزو ہے دلِ الیاؔس کی اتنی آقا آپ کے جلوے کی کرلے یہ زیارت روشن

دیکھتے رہ جاؤ گے

 عظمتِ شاہِ مدینہ دیکھتے رہ جاؤگے دوجہاں میں ان کا چرچا دیکھتے رہ جاؤگے روزِ محشر عاشقانِ مصطفیٰ کا منکرو بے خطر پل سے گزرنا دیکھتے رہ جاؤگے پڑھ کے آقا پر درودِ پاک تم سویا کرو اک نہ اک دن ان کا جلوہ دیکھتے رہ جاؤگے رونقیں دنیا کی ساری بھول کر تم بالیقیں "سبز گنبد مصطفیٰ ﷺ کا دیکھتے رہ جاؤگے" آنکھوں میں سرمہ بریلی کا لگالو نجدیا ! عمر بھر پھر تم بھی اچھا دیکھتے رہ جاؤگے ہر گھڑی کرتے رہو الیاؔس تم ان کی ثنا اوج پر قسمت کا تارا دیکھتے رہ جاؤگے

زندگی آپ سے

 صبح کو ہے ملی تازگی آپ سے اور ملی شام کو روشنی آپ سے شان بیتِ خدا کی بڑھی آپ سے ارضِ طیبہ کی قسمت بنی آپ سے آپ کی ذات " نورٌ علیٰ نور " ہے دوجہاں کو ملی روشنی آپ سے باغِ ہستی کے گلشن میں ہے یا نبی دیدنی ، تازگی ، دلکشی آپ سے گرمئی حشر کا غم نہیں ہے اسے جس نے کی ہے شہا عاشقی آپ سے بھیک پاتے ہیں اس سے شہنشاه بھی جس کو ٹکڑا ملا یا نبی آپ سے شاہِ لولاک اے مصدرِ کل جہاں " زندگی کو ملی زندگی آپ سے " میرے دل کو بھی" غار حرا " کیجئے التجا ہے یہ الیاؔس کی آپ سے

ایمان کے کعبہ حضور

 آپ ہیں ایمان کے کعبہ حضور   منفرد ہے آپ کا رتبہ حضور  رب ہے معطی آپ ہیں داتا حضور  پھر تکوں کیوں غیر کا رستہ حضور  آپ کا جود و کرم ہے واہ واہ  لا نہیں سنتا کبھی منگتا حضور  منبع انوارِ رب العلمین   بالیقیں ہے آپ کا روضہ حضور  دہر میں وہ ہوگیا ہے مشکبو  آپ کا جو ہوگیا پیارا حضور  آزمائش میں ہے امت آپ کی   "اک نظر بس اک نظر آقا حضور"  لب پہ ہو الیاؔس کے وقتِ اجل   میٹھا میٹھا آپ کا کلمہ حضور

سرکار کا روضہ

 *ڈال دے عشقِ محمد تو خدایا دل میں*   *اس کی طلعت سے ہمیشہ ہو اجالا دل میں*   *فضل رب سے نہ کیوں اترے یہ سکینہ دل میں*   *ہے منقش میرے سرکار کا روضہ دل میں*   *روک لیتا ہے خدا جس کے طفیل اپنا عذاب*   *"جلوہ افروز ہے وہ جان مسیحا دل میں"*   *اس کے اعضائے بدن ، روح بھی مہکے ہردم*   *عشقِ احمد کا لگالے جو حدیقہ دل میں*   *مل گئی ہے مجھے آزادی غمِ دنیا سے*   *غمِ سرکار کو جب سے ہے بسایا دل میں*   *اس سے الیاؔس نہیں کوئی تعلق اپنا*   *ان کے اصحاب سے رکھتا ہے جو کینہ دل میں* 

درود شریف

 اے غم کے  مارے!  بکثرت  درود  پڑھتا  رہ کریں   گے   آقا   عنایت    درود  پڑھتا  رہ برستی  خوب ہے  رحمت  درود  پڑھتا  رہ قبول   ہوگی    عبادت   درود    پڑھتا   رہ خدا  کی  ہوگی  اطاعت   درود  پڑھتا  رہ ملائکہ  کی   ہے    سنت   درود   پڑھتا  رہ ملے  گی  فکر  کو  قوت   درود پڑھتا  رہ زباں  کو  ملتی  ہے  لذت  درود  پڑھتا  رہ نشاط   پائے  گی  سیرت  درود  پڑھتا  رہ ملے  گی  روح  کو  لذت  درود  پڑھتا  رہ خدا کا حکم ہے "صلوا علیہ " کا قرآں میں  "سجا کے لب  پہ مسرت  درود پڑھتا  رہ" ہیں اس میں دونوں جہاں کی سعادتیں الیاؔس اگر   ہے   پانا   سعادت   درود  پڑھتا...