نعت خوان مصطفیٰ
کیا بیاں ہو پائے ہم سے عِزّ و شانِ مصطفیٰ
عقل سے بھی بالا تر ہے جب مکانِ مصطفیٰ
باغِ جنت کے ہیں مہماں عاشقانِ مصطفیٰ
اور جہنم کی غذا ہیں دشمنانِ مصطفیٰ
آرزو باغ جناں کی کیوں کرے گا وہ بھلا
دیکھ لے جو چشمِ دل سے گلستانِ مصطفیٰ
آیتِ قرآں سے روشن یہ عقیدہ ہے مرا
*"نوری پیکر میں ڈھلا ہے خاندانِ مصطفیٰ"*
رکھ کے ہی پیشِ نظر اپنی " فَحَدِّثْ " کی سند
منعقد کی ہم نے بزمِ داستانِ مصطفیٰ
رحمت و انوار ہوتی ہے جہاں آٹھوں پہر
یاخدا ہم کو دکھا وہ آستانِ مصطفیٰ
بالیقیں الیاؔس یہ تو فیضِ نعتِ پاک ہے
لوگ کہتے ہیں تجھے جو نعت خوانِ مصطفیٰ
Comments
Post a Comment