امن و اماں کا سامراج

 اب چلے گا دہر میں امن و اماں کا سامراج

 ہو گئے ہیں جلوہ فرما رب کے وہ محبوب آج


وہ محمد مصطفیٰ صلِّ علیٰ کی ذات ہے

" جن کو پہنایا گیا ہے رحمتِ عالم کا تاج "


ملتی ہے اس کو شفا خاکِ درِ سرکار سے

کہتے ہیں جس کو طبیبانِ زمانہ لاعلاج


جب زباں پہ انبیا کے ہو گا آقا "اذھبوا"

آپ ہی رکھیں گے اس دم ہم گنہگاروں کی لاج


دل میں جس کے ہے محبت سیدِ ابرار کی

وہ زمانہ سے پرے رہتا ہے ہردم خوش مزاج


اس سخی دربار کی الیاؔس لکھے شان کیا

ہوتی ہے جس جا بنا بولے ہی پوری احتیاج

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے