سرکار کا روضہ
*ڈال دے عشقِ محمد تو خدایا دل میں*
*اس کی طلعت سے ہمیشہ ہو اجالا دل میں*
*فضل رب سے نہ کیوں اترے یہ سکینہ دل میں*
*ہے منقش میرے سرکار کا روضہ دل میں*
*روک لیتا ہے خدا جس کے طفیل اپنا عذاب*
*"جلوہ افروز ہے وہ جان مسیحا دل میں"*
*اس کے اعضائے بدن ، روح بھی مہکے ہردم*
*عشقِ احمد کا لگالے جو حدیقہ دل میں*
*مل گئی ہے مجھے آزادی غمِ دنیا سے*
*غمِ سرکار کو جب سے ہے بسایا دل میں*
*اس سے الیاؔس نہیں کوئی تعلق اپنا*
*ان کے اصحاب سے رکھتا ہے جو کینہ دل میں*
Comments
Post a Comment