محبت بے لوث
مدحتِ سیدِ کونین کی دولت بے لوث
میرے حصے میں بھی آئی یہ سعادت بے لوث
حسنِ اخلاق کا عالم ہے کہ دشمن سے بھی
ظلم کے بدلے وہ کرتے ہیں محبت بے لوث
کیجیے صبح و مسا چرچا شہِ بطحا کا
مضطرب قلب و جگر پائیں گے راحت بے لوث
ڈال دیتا ہے خدا ان کی محبت دل میں
دین و مسلک کی جو کر جاتے ہیں خدمت بے لوث
آپ دارین کی نعمت سے مشرف ہوں گے
" کیجیے رحمتِ عالم سے محبت بے لوث "
پیکرِ صدق و صفا بن کے وہ چمکے الیاؔس
جن پہ کی شاہِ مدینہ نے عنایت بے لوث
Comments
Post a Comment