زیارت سے فیضیاب
ہو جاؤں کاش ان کی زیارت سے فیضیاب
قلب و جگر ہے جن کی عنایت سے فیضیاب
اس کی مثال اہل زمانہ نہ لا سکیں
*" جو ہوگیا ہے ان کی عنایت سے فیضیاب "*
بیتِ خدا بھی دیکھئے سجدے کو جھک گیا
ہوکر نبی کی شانِ ولادت سے فیضیاب
جس دل میں اولیا کی نہیں ہیں محبتیں
ہوگا کبھی نہ رب کی وہ رحمت سے فیضیاب
مردہ اسے گمان بھی ہرگز نہ کیجئے
بندہ جو ہوگیا ہے شہادت سے فیضیاب
الیاؔس " العطش " کی صدا وہ لگائیں کیوں
جو ہیں نبی کے دید کے شربت سے فیضیاب
Comments
Post a Comment