Posts

Showing posts from November, 2022

افضل و ارفع

جسے بھی آپ کردیں میرے آقا افضل و ارفع اسے مل جائے تاجِ دین و دنیا افضل و ارفع تری تمثیل لانے کو کیا رب نے محال آقا نہ آئے گا نہ آیا کوئی تجھ سا افضل و ارفع ذلیل و خوار ہے ہر گام پہ گستاخِ شاہِ دیں مگر عاشق ہے ان کا شان والا افضل و ارفع قیامت میں تمہیں اے مومنو! یہ کام آئے گا جو تم رکھو گے ان سے رشتہ اپنا افضل و ارفع عقیدہ ہے یہ قرآنی یہی ایمان ہے اپنا " تمامی خلق سے ہیں میرے آقا افضل و ارفع " ادب سے محفلِ سرکار میں بیٹھا کرو لوگو! یہیں سے ہوتا ہے انسان اعلیٰ افضل و ارفع میں کرتا ہوں رقم جس پہ نبی کی نعت اے الیاؔس بفضلِ رب تعالی ہے وہ صفحہ افضل و ارفع

کافی ہے

میری الفت کو یہی ایک ادا کافی ہے یعنی سرکار کی بس مدح و ثنا کافی ہے اپنی بخشش کےلئے نیکی تو " نا " کافی ہے پر شفاعت تری یا شاہِ ہدیٰ کافی ہے ڈال کر آقا کے قدموں میں اثاثہ گھر کا بولے صدیق مجھے تو ہی شہا کافی ہے کتنا پرلطف ہے اندازِ سخا آقا کا جھولیاں بھر کے کہیں اور دوں یا کافی ہے ؟ گرمئی حشر سے راحت کےلئے یاربی! تیرے محبوب کے دامن کی ہوا کافی ہے جن کی خیرات سے روشن ہوئے چاند و سورج " ہم فقیروں کےلئے ان کی عطا کافی ہے " نعتِ سرکار رقم کرنے کی خاطر الیاؔس شاخِ طوبی اور مدینے کی فضا کافی ہے

در در بھٹک رہا ہے

وہی ہے ذیشان محترم اور وہی جہاں میں چمک رہا ہے نبی کی الفت میں جس کسی کا بھی قلب یارو! دھڑک رہا ہے تری غلامی کا پیارے آقا گلے میں جس نے بھی ڈالا پٹہ جدھر بھی دیکھا جہاں بھی دیکھا اسی کا سکہ کھنک رہا ہے نبی رحمت شہِ مدینہ ! کہ پھیر لیں جس سے چہرہ اپنا اے دنیا والو! وہی قسم سے جہاں میں در در بھٹک رہا ہے فقط زمیں ہی نہیں قسم سے اے منکرو ! دیکھو فضلِ رب سے " نبی کون و مکاں کے صدقے جہان سارا چمک رہا ہے " ہے ذات جن کی سراپا رحمت گلاب میں بھی ہے جن کی نکہت مَلا ہے ان کا پسینہ جس نے مہک رہا تھا مہک رہا ہے ولادت شاہِ بحر و بر پر خوشی کے گاتے ہیں سب ترانے مگر اے الیاؔس دیکھو شیطان مارے غم کے بلک رہا ہے

جلسہ کریں گے ہم

جب بھی نبی کے نام کا جلسہ کریں گے ہم اپنے اندھیرے دل کو اجالا کریں گے ہم بیدار اپنا سویا نصیبہ کریں گے ہم " یوں سید الانام کا چرچا کریں گے ہم " ذکرِ جمیل کرکے رسولِ انام کا قلب و جگر کو اپنے مصفی کریں گے ہم ہردم لبوں پہ اپنے سجا کر درودِ پاک رحمت کی سر پہ چادریں اوڑھا کریں گے ہم نجدی وہابیوں کو جلانے کے واسطے میلاد مصطفیٰ کا ہمیشہ کریں گے ہم اسلام کے چمن میں رہے گی سدا بہار شبیر نے کہا کہ یوں سجدہ کریں گے ہم الیاؔس مصطفیٰ کے دوانے یہ کہتے ہیں باطل کے آگے سر نہ خمیدہ کریں گے ہم

رکھ کے آقا سے رابطہ محفوظ

رکھ کے آقا سے رابطہ محفوظ نار سے خود کو کرلیا محفوظ دیکھ کر روئے زیبا آقا کا ابر میں چاند ہوگیا محفوظ عشقِ احمد بسا ہے دل میں جو ہے وجود اس لئے مرا محفوظ جس پہ ہو فضلِ رب نبی کا فیض " اس کا ایمان ہوگیا محفوظ " جب بھی چشمِ کرم ہوا ان کا گردشِ دہر سے ہوا محفوظ اسوۂ مصطفیٰ پہ چل کر ہی ہوں گے مسلم ہر ایک جا محفوظ میرے مولیٰ تو پنجتن کے طفیل رکھنا الیاؔس کو سدا محفوظ

عشق آقا سے ہے والہانہ مجھے

وہ بلائیں گے اک دن مدینہ مجھے عشق آقا سے ہے والہانہ مجھے آپ ہی کا ہے صدقہ شہِ بحر و بر رب سے جو کچھ ملا آب و دانہ مجھے بخشش و مغفرت کےلئے یا نبی *" مل گیا آپ کا آستانہ مجھے "*  ہے عطائے حبیبِ خدا ساتھ میں تنہا سمجھے نہ ہرگز زمانہ مجھے  گرمئی حشر میں جب کہ جھلسے بدن رحمتوں کا ملے شامیانہ مجھے جس میں الیاؔس دیکھوں رخِ مصطفیٰ کاش حاصل ہو وہ آبگینہ مجھے

بگڑی آقا بنانے والے ہیں

غم سبھوں کا مٹانے والے ہیں  بگڑی آقا بنانے والے ہیں غم کے مارو ! پڑھو درود شریف " مرے سرکار آنے والے ہیں " پیار و شفقت کو بانٹ کر آقا دل سے نفرت مٹانے والے ہیں مکرِ ابلیس سے بچا کر وہ جادۂِ حق دکھانے والے ہیں محفلِ مصطفیٰ سجا کر ہم رحمتوں میں نہانے والے ہیں ایک شیطاں کو چھوڑ کر الیاؔس سب تو خوشیاں منانے والے ہیں

رحمت کی بارش

ہوئی شہ کی آمد پہ رحمت کی بارش محبت ، مروت ، عنایت کی بارش لحد میں جو آئیں گے سرکار میرے تو ہوگی وہاں خوب طلعت کی بارش ہو چشمِ کرم ہم پہ بھی شاہِ بطحا  ہوئی ہے بکثرت مصیبت کی بارش اگر چاہتا ہے رضائے الہی تو کر سچے دل سے عبادت کی بارش وہی تو مناتا ہے جشن ولادت ہوئی جس پہ فضل و سعادت کی بارش گنہگار در پہ شہ دیں کے جا کر " نہا لے کہ ہوتی ہے رحمت کی بارش " اے الیاؔس ان سے رہو دور ہردم برستی ہے جن پر نحوست کی بارش

جمالِ حبیبِ خدا لکھ رہا ہوں

شہِ دیں کو حاجت روا لکھ رہا ہوں غریبوں کا میں آسرا لکھ رہا ہوں ادب سے میں صلِّ علیٰ لکھ رہا ہوں  انہیں خاتم الانبیا لکھ رہا ہوں نہ لوٹا جہاں سے تہی دست کوئی  ہے ایسا درِ مصطفےٰ لکھ رہا ہوں۔۔ مچل جائیں گے مہر و مہ دیکھ کر اب جمالِ حبیبِ خدا لکھ رہا ہوں عطا ہو خدایا مجھے شاخِ طوبیٰ " میں نعتِ رسولِ خدا لکھ رہا ہوں " شفا بخش ، راحت فزا ، روحِ افزا مدینے کی آب و ہوا لکھ رہا ہوں ہے الیاؔس جو بھی شہِ دیں سے منسوب اسے اعلیٰ سب سے جدا لکھ رہا ہوں

شاہ بغداد غوث الوریٰ

قطب و ابدال اوتاد غوث الوریٰ ہیں تیرے فیض سے شاد غوث الوریٰ مرجعِ اولیا نازشِ اصفیا  "آپ ہیں شاہِ بغداد غوث الوریٰ" دستگیری غلاموں کی وہ کرتے ہیں سنتے ہیں سب کی فریاد غوث الوریٰ جس پہ ڈالی شہا تونے چشمِ کرم ہوگیا ہے وہ آباد غوث الوریٰ عشق و الفت میں تیرے ہی جیتی رہے عمر بھر میری اولاد غوث الوریٰ تیرے دربار کے مرغ کو بالیقیں پھانس پائے نہ صیاد غوث الوریٰ تیرا فیض و کرم برسے الیاؔس پر زندگی اس کی ہو شاد غوث الوریٰ

مخدوم کلیری کا

جگ میں ہے خوب چرچا مخدوم کلیری کا پڑھتے ہیں سب ہی خطبہ مخدوم کلیری کا تجھ سے فنا بقا کا مطلب جو کوئی پوچھے اس کو سنادو قصہ مخدوم کلیری کا مقصود تھا خدائے برتر کی مرضی پانا بارہ برس نہ کھانا مخدوم کلیری کا محبوب بن گیا وہ سب کی نظر میں یارو  *"دل سے ہوا جو شیدا مخدوم کلیری کا"* ہوں گی مرادیں ساری پوری ہمارے دل کی فیضان ہو جو ادنیٰ مخدوم کلیری کا وہ دن بھی آئے یارب الیاؔس جاکے کلیر لکھے قصیدہ پیارا مخدوم کلیری کا

اسوہ شہ ابرار کا

کس لئے رستہ میں اپناؤں بھلا اغیار کا ؟ جب کہ ہے پیشِ نظر اسوہ شہِ ابرار کا مسکراؤ بے سہارو! مژدہ باد اے بے کسو! ہوگیا آنا جہاں میں مونس و غمخوار کا مصطفیٰ کی شان میں کرتا ہے جو گستاخیاں سر قلم کر دیجے اس مردود و ناہنجار کا ہر گھڑی کرتا رہے وردِ درودِ پاک وہ جو ہے طالب سید کونین کے دیدار کا عینِ قرآنِ مقدس جس کا ہے اخلاقِ پاک  *" وصف کیا لکھے کوئی اس مہبطِ انوار کا "*  ہے کھلا بابِ جناں ان کے غلاموں کےلئے اور جہنم ہے ٹھکانہ شاہ کے غدّار کا اس کی قسمت کا ستارہ اوج پر الیاؔس ہے جس نے بوسہ لے لیا ہے شاہ کی پیزار کا

شہنشاہِ دوعالم نوشۂ ملکِ خدا آئے

مبارک ہو محمد مصطفیٰ صلِّ علیٰ آئے بچا کر کفر سے حق کا دکھانے راستہ آئے ادب سے سر جھکا لو کج کلاہو بادشاہو تم شہنشاہِ دوعالم نوشۂ ملکِ خدا آئے یتیمو بے سہارو مسکراؤ جھومو گاؤ اب مسیحا بن کے تم سب کا حبیبِ کبریا آئے جہاں کے ذرّے ذرّے جگمگا اٹھے مچل اٹھے کہ جب بی آمنہ کی گود میں نورِ خدا آئے ہوئے ہیں جس کے آگے بے زباں اہلِ زباں سارے شہِ کون و مکاں لےکر کے ایسا معجزہ آئے نشانِ پائے سرکارِ دوعالم جب بسایا ہے  مجھے خاکِ مدینہ سے نہ کیوں بوئے شفا آئے مسرت سے یہ کہتی تھی تمامِ خلق بھی الیاؔس بچانے نارِ دوزخ سے رسولِ مجتبیٰ آئے

مکین گنبد خضری کی آج آمد ہے

حبیبِ حق شہِ والا کی آج آمد ہے کہ فخرِ آدم و عیسیٰ کی آج آمد ہے سجاؤ گلیاں ، پڑھو تم درودوں کے نغمے  مکین گنبد خضری کی آج آمد ہے یہ مہکی مہکی فضائیں یہ خوشبودار زمیں بتا رہی ہے کہ آقا کی آج آمد ہے اے غم کے مارو یہ مژدہ سناؤ سب کو اب کہ دوجہاں کے مسیحا کی آج آمد ہے ہے جن کے نور سے تابندہ دوجہاں یارو اسی عظیم سراپا کی آج آمد ہے بصد خلوص اے الیاؔس ان کی نعتیں پڑھ کہ علم و فضل کے یکتا کی آج آمد ہے

موج خیال

                  فراقِ یار کا صدمہ نہ اب سہا جائے               سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا کیا جائے               چلا میں جاؤں گا یہ شہر چھوڑ کر تیرا                   مگر ہے جرم مرا کیا بتا دیا جائے                کیا ہے حال ترے عشق نے مرا ایسا              کہ ایک پل بھی ترے بن نہ اب رہا جائے       ابھی وہ دور ہے مجھ سے میں دور ہوں اس سے               جو آئے سامنے پھر کچھ کہا سنا جائے          مٹا کے نفرتیں خوش تم سدا رہو کاوش            کسے خبر کہ کہاں کس کی موت آ جائے