اسوہ شہ ابرار کا

کس لئے رستہ میں اپناؤں بھلا اغیار کا ؟
جب کہ ہے پیشِ نظر اسوہ شہِ ابرار کا

مسکراؤ بے سہارو! مژدہ باد اے بے کسو!
ہوگیا آنا جہاں میں مونس و غمخوار کا

مصطفیٰ کی شان میں کرتا ہے جو گستاخیاں
سر قلم کر دیجے اس مردود و ناہنجار کا

ہر گھڑی کرتا رہے وردِ درودِ پاک وہ
جو ہے طالب سید کونین کے دیدار کا

عینِ قرآنِ مقدس جس کا ہے اخلاقِ پاک
 *" وصف کیا لکھے کوئی اس مہبطِ انوار کا "* 

ہے کھلا بابِ جناں ان کے غلاموں کےلئے
اور جہنم ہے ٹھکانہ شاہ کے غدّار کا

اس کی قسمت کا ستارہ اوج پر الیاؔس ہے
جس نے بوسہ لے لیا ہے شاہ کی پیزار کا

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے