عشق آقا سے ہے والہانہ مجھے
وہ بلائیں گے اک دن مدینہ مجھے
عشق آقا سے ہے والہانہ مجھے
آپ ہی کا ہے صدقہ شہِ بحر و بر
رب سے جو کچھ ملا آب و دانہ مجھے
بخشش و مغفرت کےلئے یا نبی
*" مل گیا آپ کا آستانہ مجھے "*
ہے عطائے حبیبِ خدا ساتھ میں
تنہا سمجھے نہ ہرگز زمانہ مجھے
گرمئی حشر میں جب کہ جھلسے بدن
رحمتوں کا ملے شامیانہ مجھے
جس میں الیاؔس دیکھوں رخِ مصطفیٰ
کاش حاصل ہو وہ آبگینہ مجھے
Comments
Post a Comment