موج خیال
فراقِ یار کا صدمہ نہ اب سہا جائے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا کیا جائے
چلا میں جاؤں گا یہ شہر چھوڑ کر تیرا
مگر ہے جرم مرا کیا بتا دیا جائے
کیا ہے حال ترے عشق نے مرا ایسا
کہ ایک پل بھی ترے بن نہ اب رہا جائے
ابھی وہ دور ہے مجھ سے میں دور ہوں اس سے
جو آئے سامنے پھر کچھ کہا سنا جائے
مٹا کے نفرتیں خوش تم سدا رہو کاوش
کسے خبر کہ کہاں کس کی موت آ جائے
Comments
Post a Comment