مکین گنبد خضری کی آج آمد ہے
حبیبِ حق شہِ والا کی آج آمد ہے
کہ فخرِ آدم و عیسیٰ کی آج آمد ہے
سجاؤ گلیاں ، پڑھو تم درودوں کے نغمے
مکین گنبد خضری کی آج آمد ہے
یہ مہکی مہکی فضائیں یہ خوشبودار زمیں
بتا رہی ہے کہ آقا کی آج آمد ہے
اے غم کے مارو یہ مژدہ سناؤ سب کو اب
کہ دوجہاں کے مسیحا کی آج آمد ہے
ہے جن کے نور سے تابندہ دوجہاں یارو
اسی عظیم سراپا کی آج آمد ہے
بصد خلوص اے الیاؔس ان کی نعتیں پڑھ
کہ علم و فضل کے یکتا کی آج آمد ہے
Comments
Post a Comment