شہنشاہِ دوعالم نوشۂ ملکِ خدا آئے
مبارک ہو محمد مصطفیٰ صلِّ علیٰ آئے
بچا کر کفر سے حق کا دکھانے راستہ آئے
ادب سے سر جھکا لو کج کلاہو بادشاہو تم
شہنشاہِ دوعالم نوشۂ ملکِ خدا آئے
یتیمو بے سہارو مسکراؤ جھومو گاؤ اب
مسیحا بن کے تم سب کا حبیبِ کبریا آئے
جہاں کے ذرّے ذرّے جگمگا اٹھے مچل اٹھے
کہ جب بی آمنہ کی گود میں نورِ خدا آئے
ہوئے ہیں جس کے آگے بے زباں اہلِ زباں سارے
شہِ کون و مکاں لےکر کے ایسا معجزہ آئے
نشانِ پائے سرکارِ دوعالم جب بسایا ہے
مجھے خاکِ مدینہ سے نہ کیوں بوئے شفا آئے
مسرت سے یہ کہتی تھی تمامِ خلق بھی الیاؔس
بچانے نارِ دوزخ سے رسولِ مجتبیٰ آئے
Comments
Post a Comment