در در بھٹک رہا ہے

وہی ہے ذیشان محترم اور وہی جہاں میں چمک رہا ہے
نبی کی الفت میں جس کسی کا بھی قلب یارو! دھڑک رہا ہے

تری غلامی کا پیارے آقا گلے میں جس نے بھی ڈالا پٹہ
جدھر بھی دیکھا جہاں بھی دیکھا اسی کا سکہ کھنک رہا ہے

نبی رحمت شہِ مدینہ ! کہ پھیر لیں جس سے چہرہ اپنا
اے دنیا والو! وہی قسم سے جہاں میں در در بھٹک رہا ہے

فقط زمیں ہی نہیں قسم سے اے منکرو ! دیکھو فضلِ رب سے
" نبی کون و مکاں کے صدقے جہان سارا چمک رہا ہے "

ہے ذات جن کی سراپا رحمت گلاب میں بھی ہے جن کی نکہت
مَلا ہے ان کا پسینہ جس نے مہک رہا تھا مہک رہا ہے

ولادت شاہِ بحر و بر پر خوشی کے گاتے ہیں سب ترانے
مگر اے الیاؔس دیکھو شیطان مارے غم کے بلک رہا ہے

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے