کافی ہے

میری الفت کو یہی ایک ادا کافی ہے
یعنی سرکار کی بس مدح و ثنا کافی ہے

اپنی بخشش کےلئے نیکی تو " نا " کافی ہے
پر شفاعت تری یا شاہِ ہدیٰ کافی ہے

ڈال کر آقا کے قدموں میں اثاثہ گھر کا
بولے صدیق مجھے تو ہی شہا کافی ہے

کتنا پرلطف ہے اندازِ سخا آقا کا
جھولیاں بھر کے کہیں اور دوں یا کافی ہے ؟

گرمئی حشر سے راحت کےلئے یاربی!
تیرے محبوب کے دامن کی ہوا کافی ہے

جن کی خیرات سے روشن ہوئے چاند و سورج
" ہم فقیروں کےلئے ان کی عطا کافی ہے "

نعتِ سرکار رقم کرنے کی خاطر الیاؔس
شاخِ طوبی اور مدینے کی فضا کافی ہے

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے