Posts

Showing posts from November, 2019

نبی آئے نبی آئے

مٹانے دہر سے ہر شر نبی آئے نبی آئے اڑانے ظالموں کے سر نبی آئے نبی آئے لٹائیں اپنا مال و زر نبی آئے نبی آئے کسی کی ہم سنیں کیوں کر نبی آئے نبی آئے مبارک ہو زمیں والو نگاہِ فیض سے اپنی بنانے خَلق کو بہتر نبی آئے نبی آئے ملے گا حق برابر اب سبھی مظلوم و بے کس کو وہ دیکھو بن کے چارہ گر نبی آئے نبی آئے عقیدت اور محبت سے ربیع النور میں یارو  "چراغاں کیجئے گھر گھر نبی آئے نبی آئے"  چھپانے اپنے دامن میں گنہگاروں کو اے الیاؔس  کریم و شافع محشر نبی آئے نبی آئے

قومی ترانہ اسپیشل

ہر کسی کے آج دیکھو چہرے پہ مُسکان ہے مسکراتا کھل کھلاتا پورا ہندوستان ہے اے میرے پیارے وطن سچے وطن اچھے وطن تیری رَکچھا کےلئے یہ جان بھی قربان ہے تو ہے سندر اور سلونا توہی اچھا ہے وطن ملک کے ہر فرد کا کہتا یہی وِجدان ہے اے وطن پرچم تیرا جھکنے نہ دیں گے ہم کبھی شان ہے سمان ہے وہ دیش کی پہچان ہے ہے فضاؤں میں تیری امن و اماں کی خوشبوئيں  پُر مسرت جس سے بیشک ہر دلِ انسان ہے سینکڑوں ندیاں بھی تیری گود میں ہیں بہہ رہی تو سرور و کیف کا سب کےلئے سامان ہے جان و دل سے تجھ پہ شیدا اس لئے الیاؔس ہے اے وطن تیری محبت زندگی ہے جان ہے

مشورہ ماں باپ کا

ملتا ہے قرآن میں یہ تذکره ماں باپ کا راضی ہے اُس سے خدا جو بھی ہوا ماں باپ کا منزلِ مقصود کو پانے میں میرے دوستو کام آتا ہے یقیناً حوصلہ ماں باپ کا جس طرح  پھولوں سے خوشبو کا تعلق ہے جڑا ہے وہی اولاد سے رشتہ جُڑا ماں باپ کا اف تلک بھی نہ کہو اور گفتگو نرمی سے کر دوستو نہ تو کبھی بھی دل دُکھا ماں باپ کا کامیابی پائے گا دونوں جہاں میں وہ ضرور باخدا جو بھی رہے گا باوفا ماں باپ کا زندگی کے ہر قدم ہر موڑ پہ اے دوستو کیجئے ہر کام لےکے مشورہ ماں باپ کا جھوم کر الیاؔس بھی کہتا یہی  ہے بالیقیں "کردیا اونچا خدا نے مرتبہ ماں باپ کا"

زیر و زبر نہیں ہوتے

مسرتوں میں وہ قلب و جگر نہیں ہوتے نبی کے ذکر سے جو بہرہ ور نہیں ہوتے غلامِ سرورِ عالم جو بن کے جیتے ہیں زمانے میں کبھی زیر و زبر نہیں ہوتے نہ ہوتا صدقئہ خیر الوریٰ جو جھولی میں تو دن ہمارے مزے سے بسر نہیں ہوتے درِ نبی پہ ملے گا خیال سے بڑھ کر یہاں کبھی بھی اگر اور مگر نہیں ہوتے رسولِ پاک کا لطف و کرم ہے یہ ورنہ کبھی بھی میری شبِ غم سحر نہیں ہوتے عدم سے کوئی بھی شی نہ وجود میں آتی "اگر حضور یہاں جلوہ گر نہیں ہوتے" جو پڑھ کے نکلا ہے الیاؔس آیة الکرسی تو اس کے راستے پھر پُر خطر نہیں ہوتے

مشکبار سہرے میں

برستی رحمتوں کی ہے پھوہار سہرے میں  ہے سنتوں کا بھی اظہار یار سہرے میں " نکاح میری ہے سنت " بتا کے آقا نے پیام حق کا کیا آشکار سہرے میں عطا ہو صدقئہ صدیق حیدر و عثماں  عمر کی نظریں بھی ہو بے شمار سہرے میں ہو فیضِ غوث و رضا اور خواجہ اجمیری سدا یہ جوڑا رہے مشکبار سہرے میں مسرتوں کے کِھلے پھول جو تیرے نوشہ  ہے باپ ماں کی دعا اور پیار سہرے میں خوشی کے جھوم کر گاتے ہیں نغمہ ہر کوئی عجب سی چھائی ہے یارو خمار سہرے میں  کہے یہ رفعؔت و الیاؔس ذاؔکر و انجؔم " بسے ہیں عشق کے لیل و نہار سہرے میں " یہ کہتے بھائی چچا اور خالو بھی الیاؔس  " بسے ہیں عشق کے لیل و نہار سہرے میں "

تاجدارِ انبیا

تـاجـــدارِ انــبـیـا نورِ خــــدا "مصطفیٰ خیر الرسل خیر الوریٰ" چاند، سورج، عرش، کرشی اور فلک سب بنیں بیشک برائے مصطـفیٰ جب ہوا ہے آپ کا ذکرِ جمیل  خوب برسا نور کے بادل شہا جاننے کو عظمتِ خیر البشر  قلبِ صادق چاہئے فکرِ رسا مشکلیں آسان ہوہی جائیں گی جھوم کر پڑھئے ذرا صل علیٰ کوئی پُرساں جب نہ ہوگا حشر میں اس گـھڑی ہوں گے شـہ دیں آسـرا گـمـشدہ سـوئی ملی ہے آپ کـے مسکرانے سے میرے شمس الضحیٰ جو رسولِ پاک کا گـسـتاخ ہو  کیجئے پھر اس کا سر تن سے جدا قلب مضطر کو سکوں مل جائے گا گـر کـریں ذکـرِ نـبـی ذکرِ خــدا ناؤ میری ہے پھنسی منجدھار میں  یا نـبـی کر دیجئے ساحــل عـــطا اذن آقـا دیجـئے الـیـاؔس کو دیکھ لے نزديک سے گنبد ہرا

قطعہ

چین و سکون پیار و محبت کی بات کر نفرت کو چھوڑ کر آ اخوت کی بات کر پیارے وطن کے واسطے قربان جو ہوئے اے اہل ہند ان کی شہادت کی بات کر                    محمد الیاس مصباحی

پور نور نظاره ہوگیا

نور سے پور نور عالم کا نظاره ہو گیا جلوہ فرما آمنہ کا جب دلارا ہو گیا سر پہ رکھنے گر ملے نعلینِ پاکِ مصطفیٰ  میں بھی سمجھوں گا مقدر اب سُنہرا ہو گیا ہاتھ میں بوجہل کے کنکر نے کلمہ پڑھ دیا "سرورِ کونین کا جس دم اشارہ ہوگیا" شدَّتِ محشر سے راحت پائے گا وہ بالیقیں یا نبی جو  شخص بھی شیدا تمہارا ہو گیا باندھ کر سر پہ عمامہ رَن میں جب آئے حسین دشمنوں کے فوج پر پھر طاری لَرزہ ہو گیا عظمتِ دینِ رسولُ اللّٰہ پہ ہوکر شہید تا قیامت زندہ بیشک ابنِ زہرہ ہو گیا حضرت زینب کی جرأت دیکھ کر اے دوستوں دشمنوں کا بھی کلیجہ پارہ پارہ ہو گیا زائرِ حرمین فرطِ شوق سے کہنے لگے تھا جو برسوں سے مِرا ارمان پورا ہو گیا صُلحِ کُلِّی نجدیت پہچاننے کے واسطے  "مسلک احمد رضا " ہی ایک نعرہ ہو گیا حادثاتِ دہر کا الیاؔس کو کچھ غم نہیں ساتھ میں ماں کی دعاؤں کا جو پہرہ ہو گیا

یارسول اللّٰہ ﷺ

رب کـی رحـمـت ہــے یـارســول الـلّٰـہ  دل مـیـں  الـفـت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ وقـتِ نـُصـرت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ  رنـج و کُلـفـت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ آپ کـی سـب سـے اولـیٰ و اعــلیٰ  شــان و رفـعــت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ کل قـیامـت مـیں آپ کـی والـلّٰـہ  سـب کـو حـاجـت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ بـالیـقـیں آپ کـے ہی سـارا جــہاں زیـرِ قــدرت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ ســارے عــالـم مـیـں آپ کا روضـہ  خــوب صــورت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ دشـمـنوں کو بھی آپ کـے صـدقـے ملـتی رحـمـت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ صـدقـے میں آپ کـے ہـی میں نے تــو پـائی نعـمـت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ ہـے جـو گــســتــاخ آپ کا اس ســے مـجھ کـو نفـرت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ عـمـر سـنـت پـہ خــتـم ہـوجـائــے اتـنـی مـنـت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ نـعـت لـکھـوں مـیں جـاکـے طـیبـہ مـیـں " دل کـی چـاہـت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ " کـرکـے الـیـاؔس آپ کـی مـدحـت پـائـی شـہـرت ہــے یـارسـول الـلّٰـہ

مولیٰ حسین کا ہوگا

ہر ایک لب پہ ترانہ حسین کا ہوگا کہ بچہ بچہ بھی شیدا حسین کا ہوگا نظامِ جبر مٹانا ہو جو زمانے سے  جگانا دل میں تو جذبہ حسین کا ہوگا ہے اتری ان کی طہارت پہ آیتِ قرآں عظيم کتنا گھرانہ حسین کا ہوگا دلوں میں جن کے ہو اصحابِ پاک کی الفت وہ خوش نصیب تو شیدا حسین کا ہوگا مرا مٹا ہے یقیناً یزیدیت لیکن "جدھر بھی جاؤ علاقہ حسین کا ہوگا" ہیں کہتے کس کو عزیمت جواب میں اس کے کہا یہ عشق نے مولیٰ حسین  کا ہوگا وہ بحرِ غم سے کنارہ تو پا ہی لیتا ہے کہ پاس جس کے سفینہ  حسین کا ہوگا تکے بھی غیر کا منہ کیوں یہ ناتواں الیاؔس اسے تو کافی ہی ٹکڑا حسین کا ہوگا

لاثانی حضور

مل گیا بیشک اسے تختِ سلیمانی حضور آپ کے در کی ہے حاصل جس کو دربانی حضور آپ کی سنت پہ ہے جس نے گذاری زندگی حشر میں ہو کیوں بھلا اس کو پشیمانی حضور برکتاً مَلتے صحابہ جسم اور رخسار پر آپ کے جسم منور کا لگا پانی حضور آپ کا نامِ مبارک لکھ دیا کشتی پہ جب پھر لگا طوفان بھی کرنے نگہبانی حضور ہم سے غمخواروں کے ماویٰ اور ملجا آپ ہیں درد کے ماروں کی کیجے آپ درمانی حضور گود میں لےکر حلیمہ نے کہا یہ جھوم کر  "صورت و معنی میں ٹھہرے آپ لاثانی حضور" حضرتِ حسان و خدری کی طرح الیاؔس بھی آپ  کی  کرتا  رہے  ہر  دم ثناخوانی حضور

عرس رضوی میں

وفا کے پاٹھ پڑھائیں گے عرس رضوی میں دلوں میں آس جگائیں گے عرسِ رضوی میں مشن رضا کا بتائیں گے عرسِ رضوی میں پیامِ حق بھی سنائیں گے عرسِ رضوی میں بصد خلوص جو جائیں گے عرسِ رضوی میں "رضا کا فیض وہ پائیں گے عرس رضوی میں" پڑھائیں بچوں کو کھا کرکے آدھی ہی روٹی یہ عہد سب کو دلائیں گے عرسِ رضوی میں تھے اپنے آپ میں اک جامعہ میرے حضرت  زمانے کو یہ بتائیں گے عرسِ رضوی میں جو عرسِ تاج شریعت میں رخنہ ڈالے تھے سبق ہم ان کو سکھائیں گے عرسِ رضوی میں رضا کے نام پہ الیاؔس ان کے دیوانے نبی کی بزم سجائیں گے عرسِ رضوی میں

تاجدارِ بریلی

دل و جان کرکے نثارِ بریلی چلو دیکھنے مرغزارِ بریلی شہِ دیں کے عاشق خدا کے ولی سے بڑھی عزّ و شان و وقارِ بریلی فقاہت میں تھے مظہرِ بو حنیفہ یقیناً مرے تاجدارِ بریلی جنہیں مل گئی صحبتِ اعلی حضرت ہوئے وہ سبھی افتخارِ بریلی مٹا کرکے بدعت کئے زندہ سنت "سلام آپ پر تاجدارِ بریلی زمانہ جنہیں اعلی حضرت کہا ہے ہیں الیاؔس وہ شاہکارِ بریلی

مرحبا صد مرحبا

گھر گلی کوچہ سجا ہے مرحبا صد مرحبا "آمدِ خیر الوریٰ ہے مرحبا صد مرحبا" محفلِ میلاد میں دیکھو عقیدت سے اگر چھائی رحمت کی گھٹا ہے مرحبا صد مرحبا جب نبی پیدا ہوئے تو ایک شیطاں کے سوا ساری خلقت نے کہا ہے مرحبا صد مرحبا جن کے صدقے نعمتیں رب العلی نے کی عطا سن لو ذاتِ مصطفیٰ ہے مرحبا صد مرحبا مل گیا اس کو یقیناً جاہ و حشمت دوستو جو فدائے مصطفیٰ ہے مرحبا صد مرحبا  یادِ مولیٰ میں سدا رہنا مگن اے مومنو روح کی اچھی غذا ہے مرحبا صد مرحبا کیوں نہ وہ الیاسؔ چمکے مثلِ خورشیدِ مبیں جس پہ آقا کی عطا ہے مرحبا صد مرحبا