دلی حسرت ہے پہنچوں میں مدینے یا رسول اللہ قصیدے میں وہیں لکھوں تمہارے یا رسول اللہ مٹی تاریکیاں پھیلی اجالے یا رسول اللہ جہاں میں آپ جب تشریف لائے یا رسول اللہ گھرےہیں مشکلوں میں اور پریشاں حال ہیں ہم سب خدارا ہوں کرم کے اب اشارے یارسول اللہ تمہاری ہی ضیا کی بھیک پاکر جگمگاتے ہیں یہ سورج چاند جگنو اور ستارے یا رسول اللہ کروں کیا پیش نذرانے حضوری میں تمہارے میں یہ دل یہ جان ہیں سب کچھ تمہارے یا رسول اللہ خطا ہے اصل میں اس کی ہے جس کی سوچ شیطانی تمہارا مرتبہ وہ خاک جانے یا رسول اللہ تمہارا ذکر ہے ارفع تمہاری شان ہے اولیٰ "تمہارے نام پہ دل سے میں صدقے یا رسول اللہ" بفیضِ حضرت حسان و بوصیری زمانے میں یہ "فن شاعری" بھی خوب چمکے یا رسول اللہ پھلے پھولے کرے تا حشر دینِ پاک کی خدمت یہ جو تحریک ہے یا رب "میں صدقے یا رسول اللہ" یہی رب سے دعا الیاس کی ہے تا دمِ آخر درود و نعت کے ہوں لب پہ نغمے یا رسول اللہ
نظم و غزل کی مجھ کو نہیں دلکشی عزیز نعتِ رسولِ پاک کی ہے چاشنی عزیز " دیوانۂ رسول " سے دنیا پکارے بس " مجھ کو یہی پسند ہے ، مجھ کو یہی عزیز " عیش و طرب کا وقت ہو یا رنج کا سماں ہر حال میں ہو مومنو! قولِ نبی عزیز شاہِ عرب کے جو بھی ہیں عشاق بالیقیں ان کے عدو سے رکھتے نہیں دوستی عزیز اصحابِ مصطفیٰ ہوں کہ آلِ رسول ہوں عز و وقار والے ہیں اور ہیں سبھی عزیز کثرت سے مومنو! کرو صلِّ علیٰ کا ورد باغِ جناں کی گر ہے تمہیں دلکشی عزیز کاوش شہِ زمن کی اطاعت سے ذکر سے راحت ملے گی ہوگی تری زندگی عزیز
کرم سرکار کا ہے اور خدا کی مہربانی ہے گنہگاروں کو روزِ حشر کی جو شادمانی ہے جہاں کا چپہ چپہ چھان کر روح الامیں بولے شہ لولاک جیسا خوبرو نہ کوئی ثانی ہے بسالو دل میں سرکارِ دوعالم کی محبت کو مزےمیں گزریگی پھرتیری بھی جوزندگانی ہے شہ بطحا کی اسوے پہ گزارو زندگی اپنی اسی میں شادمانی ہے اسی میں کامرانی ہے برستی ہے خدا کی رحمتیں شام و سحر یارو مدینہ طیبہ لطف و کرم کی راجدھانی ہے ادب سے سنتے ہیں الیاؔس آکرکے فرشتے بھی امام الانبیا کی ہوتی جس دم نعت خوانی ہے از : محمد الیاس مصباحی اُرّو سریا گریڈیہ
Comments
Post a Comment