بچانے نار سے محبوب کبریا آئے ہمیں وہ خلد کا دکھلانے راستہ آئے نہ جان پائے حقیقت مکین سدرہ جب کسی کی عقل میں کیا شانِ مصطفیٰ آئے خدا کے رحمت و انوار کا بنا مصدر حلیمہ جب ترے گھر شاہِ انبیا آئے وہ دیکھو سر پہ شفاعت کا تاج پہنے ہوئے "انا لہا کی صدا لے کے مصطفیٰ آئے" درود لب پہ ہو اور سامنے مدینہ ہو دعا ہے رب سے اسی حال میں قضا آئے درود پاک سے اپنے لبوں کو تر رکھنا ترے قریب کبھی کوئی جو بلا آئے سجائی ہم نے زمین پر جو نعت کی محفل فرشتے لے کے یہاں رحمت خدا آئے وہابیوں نے کیا دینِ حق پہ جب حملہ تو بن کے سیف الہی مرے رضا آئے لبوں پہ نعت سجا کر میں جاؤں گا کاوش بلاوا آئے مدینے سے تو مزہ آئے
کیا بیاں ہو پائے ہم سے عِزّ و شانِ مصطفیٰ عقل سے بھی بالا تر ہے جب مکانِ مصطفیٰ باغِ جنت کے ہیں مہماں عاشقانِ مصطفیٰ اور جہنم کی غذا ہیں دشمنانِ مصطفیٰ آرزو باغ جناں کی کیوں کرے گا وہ بھلا دیکھ لے جو چشمِ دل سے گلستانِ مصطفیٰ آیتِ قرآں سے روشن یہ عقیدہ ہے مرا *"نوری پیکر میں ڈھلا ہے خاندانِ مصطفیٰ"* رکھ کے ہی پیشِ نظر اپنی " فَحَدِّثْ " کی سند منعقد کی ہم نے بزمِ داستانِ مصطفیٰ رحمت و انوار ہوتی ہے جہاں آٹھوں پہر یاخدا ہم کو دکھا وہ آستانِ مصطفیٰ بالیقیں الیاؔس یہ تو فیضِ نعتِ پاک ہے لوگ کہتے ہیں تجھے جو نعت خوانِ مصطفیٰ
معتمد ہیں مستند ہیں سیدی احمد رضا اہل حق کے واسطے ہیں روشنی احمد رضا مصطفیٰ سے کام رکھو غیر سے رکھو نہ کام دے گئے پیغام دنیا کو یہی احمد رضا اپنی خوشبو سے معطر ہم کو بھی کر دو کبھی " تم گل برکاتیت ہو سیدی احمد رضا " فضلِ حق سے آپ نے ان کو کیا ہے بے نقاب بن کے رہبر کرتے تھے جو رہزنی احمد رضا ہر کسی کو آپ کی نسبت پہ فخر و ناز ہے قادری برکاتی ہو یا اشرفی احمد رضا اہل باطل سے ہمیں الیاس لڑنے کے لئے دے گئے ہتھیار ہم کو قیمتی احمد رضا
Comments
Post a Comment