زیر و زبر نہیں ہوتے

مسرتوں میں وہ قلب و جگر نہیں ہوتے
نبی کے ذکر سے جو بہرہ ور نہیں ہوتے

غلامِ سرورِ عالم جو بن کے جیتے ہیں
زمانے میں کبھی زیر و زبر نہیں ہوتے

نہ ہوتا صدقئہ خیر الوریٰ جو جھولی میں
تو دن ہمارے مزے سے بسر نہیں ہوتے

درِ نبی پہ ملے گا خیال سے بڑھ کر
یہاں کبھی بھی اگر اور مگر نہیں ہوتے

رسولِ پاک کا لطف و کرم ہے یہ ورنہ
کبھی بھی میری شبِ غم سحر نہیں ہوتے

عدم سے کوئی بھی شی نہ وجود میں آتی
"اگر حضور یہاں جلوہ گر نہیں ہوتے"

جو پڑھ کے نکلا ہے الیاؔس آیة الکرسی
تو اس کے راستے پھر پُر خطر نہیں ہوتے

Comments

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے