مشکبار سہرے میں
برستی رحمتوں کی ہے پھوہار سہرے میں
ہے سنتوں کا بھی اظہار یار سہرے میں
" نکاح میری ہے سنت " بتا کے آقا نے
پیام حق کا کیا آشکار سہرے میں
عطا ہو صدقئہ صدیق حیدر و عثماں
عمر کی نظریں بھی ہو بے شمار سہرے میں
ہو فیضِ غوث و رضا اور خواجہ اجمیری
سدا یہ جوڑا رہے مشکبار سہرے میں
مسرتوں کے کِھلے پھول جو تیرے نوشہ
ہے باپ ماں کی دعا اور پیار سہرے میں
خوشی کے جھوم کر گاتے ہیں نغمہ ہر کوئی
عجب سی چھائی ہے یارو خمار سہرے میں
کہے یہ رفعؔت و الیاؔس ذاؔکر و انجؔم
" بسے ہیں عشق کے لیل و نہار سہرے میں "
یہ کہتے بھائی چچا اور خالو بھی الیاؔس
" بسے ہیں عشق کے لیل و نہار سہرے میں "
Comments
Post a Comment