پور نور نظاره ہوگیا
نور سے پور نور عالم کا نظاره ہو گیا
جلوہ فرما آمنہ کا جب دلارا ہو گیا
سر پہ رکھنے گر ملے نعلینِ پاکِ مصطفیٰ
میں بھی سمجھوں گا مقدر اب سُنہرا ہو گیا
ہاتھ میں بوجہل کے کنکر نے کلمہ پڑھ دیا
"سرورِ کونین کا جس دم اشارہ ہوگیا"
شدَّتِ محشر سے راحت پائے گا وہ بالیقیں
یا نبی جو شخص بھی شیدا تمہارا ہو گیا
باندھ کر سر پہ عمامہ رَن میں جب آئے حسین
دشمنوں کے فوج پر پھر طاری لَرزہ ہو گیا
عظمتِ دینِ رسولُ اللّٰہ پہ ہوکر شہید
تا قیامت زندہ بیشک ابنِ زہرہ ہو گیا
حضرت زینب کی جرأت دیکھ کر اے دوستوں
دشمنوں کا بھی کلیجہ پارہ پارہ ہو گیا
زائرِ حرمین فرطِ شوق سے کہنے لگے
تھا جو برسوں سے مِرا ارمان پورا ہو گیا
صُلحِ کُلِّی نجدیت پہچاننے کے واسطے
"مسلک احمد رضا " ہی ایک نعرہ ہو گیا
حادثاتِ دہر کا الیاؔس کو کچھ غم نہیں
ساتھ میں ماں کی دعاؤں کا جو پہرہ ہو گیا
Comments
Post a Comment