Posts

شہ ابرار آ گئے

عدل و وفا خلوص کے گُل لہلہا گئے روئے زمیں پہ جب شہِ ابرار آ گئے *لولاک* والے آپ کے ہی نورِ پاک سے شمس و قمر ستارے سبھی جگمگا گئے ظلم و جفا کی وادی سے آقا نکال کر " بھٹکے ہوؤں کو راہِ ہدایت دکھا گئے" ایمان ، پیارا دین ، خدا کا کلامِ حق ہم سب رسولِ پاک کے صدقے میں پا گئے چل کر اسی پہ امن و سکوں پائیں گے سبھی جو راستہ رسولِ معظم بتا گئے میں نے رسولِ پاک کا نعرہ لگایا جب عاشق لگے مچلنے عدو تھرتھرا گئے الیاس ہو کروڑوں درود ان کی ذات پر سینے سے دشمنوں کو جو اپنے لگا گئے

پہچان ہیں احمد رضا

لؤلؤ و مرجان ہیں احمد رضا صاحبِ عرفان ہیں احمد رضا عاشقانِ مصطفیٰ صلِّ علی آپ پر قربان ہیں احمد رضا حق و باطل جاننے کے واسطے دوستو! پہچان ہیں احمد رضا معترف اس بات پہ ہے ہر کوئی *"عاشقی کی جان ہیں احمد رضا"* جس کی بو سے سنیت ہے مشکبار وہ گلِ ریحان ہیں احمد رضا کہ اٹھے " اقبال " پڑھ کر فتوے کو پرتوِ " نعمان " ہیں احمد رضا

پیام رضا

جہاں میں بڑا احترامِ رضا ہے کہ لاریب عالی مقامِ رضا ہے جو اعدائے شاہِ دوعالم ہیں‌ ، ان سے نہ رکھ واسطہ یہ پیامِ رضا ہے جو عاشق کے دل کی کرے ترجمانی بفضلِ خدا وہ سلامِ رضا ہے اسے دیو کے بندے بہکا نہ پائیں پیا جس نے " اختر" سے جامِ رضا ہے اسی پر ہو نازاں یہ الیاس یارو زمانہ کہے گر غلامِ رضا ہے

سیدی احمد رضا

معتمد ہیں مستند ہیں سیدی احمد رضا اہل حق کے واسطے ہیں روشنی احمد رضا مصطفیٰ سے کام رکھو غیر سے رکھو نہ کام دے گئے پیغام دنیا کو یہی احمد رضا اپنی خوشبو سے معطر ہم کو بھی کر دو کبھی " تم گل برکاتیت ہو سیدی احمد رضا " فضلِ حق سے آپ نے ان کو کیا ہے بے نقاب  بن کے رہبر کرتے تھے جو رہزنی احمد رضا ہر کسی کو آپ کی نسبت پہ فخر و ناز ہے قادری برکاتی ہو یا اشرفی احمد رضا اہل باطل سے ہمیں الیاس لڑنے کے لئے دے گئے ہتھیار ہم کو قیمتی احمد رضا

ظلم کا کاٹا گلہ شبیر نے

یہ نہ پوچھو کیا کیا مردِ خدا شبیر نے ؟ حرمتِ دیں کو نہیں مٹنے دیا شبیر نے عرش نے بھی ان کا اس دم بڑھ کے بوسہ لے لیا شکرِ رب میں جب کیا سجدہ ادا شبیر نے کیا کوئی کر پائے گا ایسی سخاوت دوستو! جیسی کی ہے فاتحِ کرب و بلا شبیر نے شمعِ دیں کو کردیا روشن ہمیشہ کےلئے اپنا کنبہ کرکے قرباں پارسا شبیر نے ہے وہاں کا ذرہ ذرہ اس پہ شاہد بالیقیں "کربلا میں ظلم کا کاٹا گلا شبیر نے"   زندگی الیاس اس کی ہوگئی ہے پرضیا جس کسی پہ ڈالی ہے چشمِ عطا شبیر نے 

ورد صلِّ علی کجیے

روز و شب وردِ صلِّ علیٰ کیجیے دور ہوگا اندھیرا کبھی نہ کبھی نور و نکہت کی برسات سے پرضیا دل کا ہوگا دریچہ کبھی نہ کبھی جن کی رحمت سے ہوتے ہیں سب فیضیاب اپنے منگتوں کو جو دیتے ہیں بے حساب ان کی الفت کا قندیل دل میں جلا وہ دکھائیں گے جلوہ کبھی نہ کبھی دیکھنا ان کے لطف و کرم کے طفیل اپنے ماں باپ کے ساتھ اے دوستو! "نعتِ سلطانِ دیں گنگناتا ہوا جاؤں گا شہرِ طیبہ کبھی نہ کبھی" رحمتِ رب سے مایوس ہرگز نہ ہو رنج و غم کو زوال آئے گا ایک دن اس کے فضل و کرم سے چمک جائے گا تیری قسمت کا تارا کبھی نہ کبھی سید الانبیا رب کے محبوب کی دل میں الیاس جس کے ہو الفت بسی حق تعالیٰ کی رحمت سے وہ بالیقیں پائے گا خاص تحفہ کبھی نہ کبھی

طیبہ نگر کبھی نہ کبھی

طفیل حضرت خیر البشر کبھی نہ کبھی خدا کرے گا خطا درگزر کبھی نہ کبھی عطا ہو اذنِ حضوری جو آپ کی آقا "ضرور جاؤں گا طیبہ نگر کبھی نہ کبھی" اسی طلب میں درود ان پہ پڑھ کے سوتا ہوں کہ ہوگی دیدِ شہِ بحر و بر کبھی نہ کبھی ستمگروں سے یہ کہتے تھے غم کے مارے ہوئے  سکوں سے ہوگا ہمارا بسر کبھی نہ کبھی رسول پاک کی سیرت پہ چل کے اے الیاس بنوگے دہر میں تم تاجور کبھی نہ کبھی

تاج الشریعہ کا

زباں پر ہے مرے نغمہ مرے تاج الشریعہ کا ہے دل پر آج بھی قبضہ مرے تاج الشریعہ کا دِوانے مانگنے آ روضہ مرے تاج الشریعہ کا ہے بہتا فیض کا دریا مرے تاج الشریعہ کا جمالِ حجۃالاسلام کمالِ مفتئ اعظم سراپا یارو تھا ایسا مرے تاج الشریعہ کا عصائے موسوی بن کر ہر اک نجدی وہابی پر قلم بھی خوب ہے چمکا مرے تاج الشریعہ کا حدیث مصطفیٰ سے اور کلام اللہ سے بیشک مزین ہے ہر اک فتویٰ مرے تاج الشریعہ کا زمانہ ہوگیا ہے پر نہیں بھولا ہوں میں اب تک *"منور چاند سا چہرہ مرے تاج الشریعہ کا"* شرف کعبہ کی مہمانی کا انہیں حاصل بھی ہے الیاس بلند رب نے کیا رتبہ مرے تاج الشریعہ

مسرت نہ پوچھئے

ذکرِ شہِ امم کی حلاوت نہ پوچھئے ہوتی ہے کیسے دل کو مسرت نہ پوچھئے  جس کو لگا کے زہر بھی کافور ہوگیا سرکار کے لعاب کی برکت نہ پوچھئے ہم عاصیوں کے واسطے ہر اک مقام پر " سلطانِ دو جہاں کی محبت نہ پوچھئے " ناموسِ مصطفےٰ پہ جو قربان ہو گیا اس کا مقام اس کی تو عظمت نہ پوچھئے  عشقِ نبی میں ڈوب کے پڑھتا ہوں جب نماز پاتا ہوں کیسی چاشنی راحت نہ پوچھئے کھچڑا ملیدہ دیو کو بدعت لگے مگر کوے سے ان کو کیسی ہے رغبت نہ پوچھئے الیاؔس کربلا کی دہکتی زمین پر شیرِ خدا کے لعل کی جرأت نہ پوچھئے

لاجواب ہے

بےمثل و بے مثال ہے تو لاجواب ہے ذرہ تری گلی کا جو ہے ماہتاب ہے تاریکیاں زمانے سے کافور ہوگئیں آقا جو رخ سے آپ کے اٹھا نقاب ہے جب سے قدم پڑے ہیں رسول انام کے *طیبہ میں ہر مرض کی دوا دستیاب ہے* چوما ہے کامیابی نے اس کے قدم شہا جو بھی تمہارے در سے ہوا باریاب ہے پل میں شفا ملی ہے قتادہ کی آنکھ کو جب اس میں شاہ دیں نے لگایا لعاب ہے اس پر برستی رہتی ہے لعنت خدا کی ، جو مردودِ بارگاہِ رسالت مآب ہے الیاؔس گر رسول کی چشمِ عطا ہوئی رب کے حضور پھر ترا آساں حساب ہے