Posts

Showing posts from March, 2019

مشکل کشا ہیں حضرت مولیٰ علی

ذوالفقارِ مصطفیٰ ہیں حضرت مولیٰ علی شیرِ حق شیرِ خدا ہیں حضرت مولیٰ علی پیشوائے اولیا ہیں حضرت مولیٰ علی زاہدوں کے مُقتدا ہیں حضرت مولیٰ علی مشکلیں کیوں نہ ٹلیں میری  بھلا اے مومنو جب میرے کشا ہیں حضرت مولیٰ علی وہ بھٹک سکتا نہیں ہے راہِ حق سے بالیقیں  جس کسی کے رہنما ہیں حضرت مولیٰ علی قادریت چشتیت ہو یا ہو جو بھی سلسلے  ہر کسی کے منتہا ہیں حضرت مولیٰ علی پست ہوجائیں عدو کے حوصلے بھی دیکھ کر رکھتے ایسا دبدبہ ہیں حضرت مولیٰ علی دیکھ کے شانِ سخاوت کہ اٹھے اہلِ خرد " مصدرِ جود و سخا ہیں حضرت مولیٰ علی  " دوستو ہیں وہ شریعت اور طریقت کے امام مجمع البحرین سا ہیں حضرت مولیٰ علی شانِ دامادِ پیمبر میں  لکھے الیاؔس جو بالیقیں اس سے ورا ہیں حضرت مولیٰ علی

مرحبا مرحبا آگئے مصطفیٰ

مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا آگئے مصطفیٰ مرحبا مرحبا  محبوب رب دوجہاں سرکار آگئے  سارے جہاں کے مالک و مختار آگئے  لاؤ سجاکے یارو درودوں کی ڈالیاں کہ صل علیٰ کے مالک و حقدار آگئے  مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا آگئے مصطفیٰ مرحبا مرحبا  دنیا سے ظلمتوں کو مٹانے کے واسطے  بھٹکوں کو حق کی راہ دکھانے کے واسطے  شیطان کے جو پنجوں میں برسوں سے قید تھے آئے حضور اُن کو چھڑانے کے واسطے  مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا آگئے مصطفیٰ مرحبا مرحبا  ادنیٰ کو پیارے آقا نے اعلیٰ بنادیا ذرّے کو مصطفیٰ نے نگینہ بنادیا جس گھر میں اژدھام تھا لات و منات کا اس کو رسولِ پاک نے کعبہ بنادیا مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا آگئے مصطفیٰ مرحبا مرحبا  عشق و وفا کا جام پلانے وہ آگئے  سویا نصیب سب کا جگانے وہ آگئے  مظلوم بے سہاروں کو الیاؔس قادری  سینے سے اپنے لگانے وہ آگئے  مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا آگئے مصطفیٰ مرحبا مرحبا 

حمد باری تعالی

تیری ذات لم یلد ہے تو بـے مثال یکتا  دونوں جہاں کے خالق و معبود تو ہی تنہا لوح و قلم ہو کرسی عرش و مکان سب کو نورِ محمدی ﷺ یارب وجود بخشا ہم عاصیوں پہ یارب احسان ہے یہ بیشک  محبوب اپنا تونے ہم عاصیوں میں بھیجا  عصیوں میں ہم تھے ڈوبـے مجرم بہت بڑے تھے جاؤک سے بتایا بخشش کا تونے رستہ یہ التجا ہے تجھ سے ہم عاصیوں کی یارب گیسوئے پاک کا ہو محشر میں ہم پہ سایہ  الیاؔس کی یہ حسرت تکمیل ہو خدایا ہند سے جاکے دیکھے پیارے نبی کا روضہ  

مدح و ثنا کررہے ہیں

وہ مختارِ کل ہیں عطا کررہے ہیں جسے چاہیں جنت ہبہ کررہے ہیں بساکے تصور میں چہرہ نبی کا  تلاوت کلامِ خدا کررہے ہیں بچھائے ہیں کانٹے جفاؤں کے لیکن  حبیبِ مکرم دعا کررہے ہیں ذرا دیکھو معراج کی شب میں اُن کی سبھی مُقتدا اقتدا کررہے ہیں یہ اعجاز بخشا خدا انہیں کی حجر وردِ صل علیٰ کررہے ہیں یقیناً ہے یہ اُن کا لطف و کرم جو  " رقم اُن کی مدح و ثنا کررہے ہیں " دل و جان ہو کہ یا ہو مال و دولت صحابہ نبی پہ فدا کررہے ہیں ہیں بھوکے پیاسے مگر ابنِ حیدر  تہِ تیغ سجدہ ادا کررہے ہیں جو بچپن میں نانا سے وعدہ کیا تھا حسین کربلا میں وفا کررہے ہیں یہ الیاؔس بیٹھا ہے دامن پسارے عطا کرنے والے عطا کررہے ہیں

مسلمان کردیا

خواجہ پیا نے ہند پہ احسان کردیا کلمہ پڑھاکے سب کو مسلمان کردیا  اک چھوٹے سے کٹورے میں ساگر سمیٹ کر بُت کے پجاریوں کو بھی حیران کردیا خواجہ نے خاک کرکے اجے پال کا غرور  توبہ کراکے صاحبِ ایمان کردیا  آیا جو دل میں اپنے تمنا لئے ہوئے  خواجہ نے پورا اس کا بھی ارمان کردیا  کچھ بھی نہیں تھا پہلے یہ الیاؔس دوستو  فیضِ معین نے اسے ذیشان کردیا 

مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں

وہ کالی زلفیں وہ بھوری آنکھیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں وہ قہر ڈھاتی ہوئی نگاہیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں سَرَو کے جیسی ہے اُس کی قامت گلاب جیسی ہے اُس کی صورت لبوں کی لالی شرابی چالیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں مٹک مٹک کرکے اُس کا چلنا کہ باتوں باتوں میں مسکرانا  یقين مانو یہ سب ادائیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں کلام شیریں ہے لہجہ پیارا مزاج بھی ہے محبتانہ اے یارو لفظوں میں کیا بتائیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں بتاؤ منہاج اور جمالی غزل یہ الیاؔس کی ہے کیسی تو بولے مجھ سے کہ کیا بتائیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں

ترانہ دارالعلوم نوری راجستھان

اونچا رہے تمہارا دارالعلوم نوری  یہ علم کا منارہ دارالعلوم نوری  روشن ہو ذرہ ذرہ دارالعلوم نوری  فضلِ خدا تمہارا دارالعلوم نوری  اللّٰہ و مصطفیٰ کی ہوتی ہیں باتیں ہردم  کیا خوب ہے نصیبہ دارالعلوم نوری  فیضانِ غوث و خواجہ احمد رضا کا تجھ پہ جاری رہے ہمیشہ دارالعلوم نوری  علم و عمل کا زیور پہناکے تونے کتنوں کو ہے سنوارا دارالعلوم نوری  بے لوث کررہا ہے دینِ متیں کی خدمت  جب سے بنا ادارہ دارالعلوم نوری  باقی رہے سدا یوں نام و نشاں تمہارے  جگ میں ہو خوب شہرہ دارالعلوم نوری  ناکام ہو تمہارے دشمن کےسب ارادے  تم چمکو نور جیسا دارالعلوم نوری  محنت لگن سے اپنی سارے اساتذہ نے بیشک تمہیں نکھارا دارالعلوم نوری  عرفاؔن نے تمہاری بیشک عمارتوں کو خونِ جگر سے سینچا دارالعلوم نوری  حضرت شریفؔ و عرفاؔں رحمؔت سعؔود کو بھی دل جان سے ہے پیارا دارالعلوم نوری  دلکش عمارتوں کو دیکھا تمہاری جس نے دل سے ہوا وہ شیدا دارالعلوم نوری  ہے التجا خدا سے الیاؔ...

چشمِ کرم غریب نواز

بلند حق کا ہوا ہے علم غریب نواز پڑے ہیں ہند میں جب سے قدم غریب نواز لگی ہے بالیقیں کشتی بھی اس کی ساحل پہ ہوا ہے آپ کا جس پہ کرم غریب نواز عطا ہو صدقئہ ہارونی مجھ کو بھی خواجہ میرے بھی دور ہوں رنج و الم غریب نواز تمام عمر نہ چھوڑوں گا در تِرا ہرگز لگا لیں لاکھ عدو اپنا دم غریب نواز کھڑے ہیں ہاتھ میں کشکول خالی لےکے ہم " ادھر بھی کیجئے چشمِ کرم غریب نواز " کہا ہے آپ سے جیپال گرکے قدموں پر بنالیں اب مجھے خاکِ قدم غریب نواز عطا ہو ناتواں الیاؔس کو بھی ذوقِ سخن چلے نبی کی ثنا میں قلم غریب نواز

سرکار غوث پاک

فریاد سن لیں ولیوں کے سردار غوثِ پاک بن کے سوالی آیا ہوں دربار غوثِ پاک برکت میرے مکان میں ہونے لگی ہے خوب لکھا ہوں جب سے برسرِ دیوار غوثِ پاک ہے یاد ہرکسی کو کرامت یہ آج بھی ستر گھروں میں تھے کئے افطار غوثِ پاک یا غوث المدد  کی لگایا جو میں صدا آئے مدد کے واسطے سرکار غوثِ پاک جب تک میری حیات کی شمع جلی رہے بن کے رہوں ہمیشہ وفادار غوثِ پاک فیض و کرم سے آپ کے وہ مالامال ہے  جس دل میں آپ کا ہے بسا پیار غوثِ پاک فضلِ خدا سے آپ کی ایسی ہـے رفعتیں اپنے تو اپنے مانے بھی اغیار غوثِ پاک دلکش ہے دلنشین ہے روضہ جو آپ کا ہوتی ہے وہاں بارشِ انوار غوثِ پاک دنیا بھی سنور جائے گی عقبیٰ بھی بالیقیں  " چشمِ کرم کریں گے جو سرکار غوثِ پاک " الیاؔس نے لکھا ہے قصیدہ جو آپ کا ہوں آپ کو قبول وہ اشعار غوثِ پاک 

Ilyas misbahi suriya Madrasa Ghosiya Razvia Dlangi

Image

اسی میں شادمانی ہے

کرم سرکار کا ہے اور خدا کی مہربانی ہے گنہگاروں کو روزِ حشر کی جو شادمانی ہے جہاں کا چپہ چپہ چھان کر روح الامیں بولے شہ لولاک جیسا خوبرو نہ کوئی ثانی ہے بسالو دل میں سرکارِ دوعالم کی محبت کو مزےمیں گزریگی پھرتیری بھی جوزندگانی ہے شہ بطحا کی اسوے پہ گزارو زندگی اپنی اسی میں شادمانی ہے اسی میں کامرانی ہے برستی ہے خدا کی رحمتیں شام و سحر یارو مدینہ طیبہ لطف و کرم کی راجدھانی ہے ادب سے سنتے ہیں الیاؔس آکرکے فرشتے بھی امام الانبیا کی ہوتی جس دم نعت خوانی ہے  از : محمد الیاس مصباحی اُرّو سریا گریڈیہ

زمانے میں کبھی زیر و زبر نہیں ہوتے

Image

Ilyas misbahi suriya

Image