مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں
وہ کالی زلفیں وہ بھوری آنکھیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں
وہ قہر ڈھاتی ہوئی نگاہیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں
سَرَو کے جیسی ہے اُس کی قامت گلاب جیسی ہے اُس کی صورت
لبوں کی لالی شرابی چالیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں
مٹک مٹک کرکے اُس کا چلنا کہ باتوں باتوں میں مسکرانا
یقين مانو یہ سب ادائیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں
کلام شیریں ہے لہجہ پیارا مزاج بھی ہے محبتانہ
اے یارو لفظوں میں کیا بتائیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں
بتاؤ منہاج اور جمالی غزل یہ الیاؔس کی ہے کیسی
تو بولے مجھ سے کہ کیا بتائیں مجھے دیوانہ بنا رہے ہیں
Comments
Post a Comment