مدح و ثنا کررہے ہیں

وہ مختارِ کل ہیں عطا کررہے ہیں
جسے چاہیں جنت ہبہ کررہے ہیں

بساکے تصور میں چہرہ نبی کا 
تلاوت کلامِ خدا کررہے ہیں

بچھائے ہیں کانٹے جفاؤں کے لیکن 
حبیبِ مکرم دعا کررہے ہیں

ذرا دیکھو معراج کی شب میں اُن کی
سبھی مُقتدا اقتدا کررہے ہیں

یہ اعجاز بخشا خدا انہیں کی
حجر وردِ صل علیٰ کررہے ہیں

یقیناً ہے یہ اُن کا لطف و کرم جو 
" رقم اُن کی مدح و ثنا کررہے ہیں "

دل و جان ہو کہ یا ہو مال و دولت
صحابہ نبی پہ فدا کررہے ہیں

ہیں بھوکے پیاسے مگر ابنِ حیدر 
تہِ تیغ سجدہ ادا کررہے ہیں

جو بچپن میں نانا سے وعدہ کیا تھا
حسین کربلا میں وفا کررہے ہیں

یہ الیاؔس بیٹھا ہے دامن پسارے
عطا کرنے والے عطا کررہے ہیں

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

خوب چمکے یا رسول اللہﷺ

قول نبی عزیز

اسی میں شادمانی ہے